تحدیث نعمت — Page 495
٤٩٥ دن ملک صاحب نے ٹیلیفون پر فرمایا کہ تمہارا خط مجھے مل گیاہے۔مجھے اصول تمہارے ساتھ اتفاق ہے۔لیکن میں مز میشوی رنا چاہتا ہوں جوشیلیوں کی مختر گنگ میں مگن نہیں۔ایکدن کے لئے اور آباد میرے عام ہونے پرملک صاب نے فرما کہ جیسے میں نے ٹیلیفون پر تم سے کہا تھا مجھے اور تمہارے ساتھ اتفاق ہے لیکن میں تمہاری موجودگی میں بھائی الہ خیش نواب سر اللہ بخش خان ٹوانہ ) کے ساتھ مشورہ کرنا چاہتا ہوں اور پھر مظفر (نواب سر مظفر علی قزلباش ) سے بھی مشورہ کرنا چاہتا ہوں جس نے ہر مسلے پر میرا ساتھ دیا ہے۔میں ان دو حضرات سے مشورہ کئے بغیر کوئی پختہ فیصلہ نہیں کرسکتا۔نواب سر اللہ بخش خال صاحب ملک صاحب کے بنگلے کے باغ میں ایک نتیجے میں فروکش تھے۔ہم دونوں انکی خدمت میں محاضر ہوئے۔ملک صاحب نے ان سے کہا بھائی جان میں نے ظفر اللہ خان کی چھٹی آپ کوپڑھ کر سنادی تھی۔اب آپ۔فرمائیں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نواب صاحب نے فرمایا میں نے پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی کہتا ہوں کہ مجھے ظفراللہ خان کے ساتھ الفان ہے۔اس مرحلہ پر صحیح طریق یہی ہے کہ تم اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤ۔پچند منٹ کی گفتگو کے بعد وہیں سے ملک صاحب نے سر منظفر علی خالصاحب کے بال ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہدہ اپنی اسٹیٹ پر تشریف لے گئے ہیں۔وہاں ٹیلیفون نہیں تھا ملک صحاب نے اپنے موٹر ڈرائیور کو ارث درفرمایا کہ فورا کار میں جاکر نوا سر منظفر علی خالصاحب کو ان کی اسٹیٹ سے لے آئے۔نواب صاحب کی تشریف آوری پر ملک صاحب نے میرے خط کا ذکر نواب صاحب سے یا اوران کی اسے روایات کی انہوں نے امام مسلم لیگ کی تحریک عدم تعاون کو نا کام کر چکے ہیں مجلس میں ہماری پوزیشن مضبوط ہے۔بجٹ کا اجلاس چند دنوں میں شروع ہونے والا ہے۔اس بات ئے سے تو مجھے اتفاق ہے کہ ہمیں حکمت سے دستبردار ہو جانا چاہئے لیکن میری رائے میں بجٹ پاس کرنے کے بعد استعفی دینا چاہے یہ سنتے ہی نواب اله بخش صاحب نے فرمایا۔مشورہ طلب مر یہ نہیں کہ استعفے کب دیا جائے بلکہ یہے کہ استعفے اس نیست دیا جائے یا نہیں۔آج سے ڈیڑھ یا دو ماہ بعد استعفے دینے کا فیصلہ بے سود ہے کیا معلوم اس درمیانی عرصہ میں واقعات کیا ہوں اور کیا مراحل پیش آئیں اور کن حالات کا آپ کو سامنا ہو۔پھر ایک اور امر بھی قابل غور ہے۔اگر آپ آج یہ فیصلہ کریں کہ بجٹ پاس کرنے کے بعد استعفے دیں گے اور پارٹی کویہ بتایں تو پارٹی بھی نشر ہوجائے گی اور یوں آپ کا استعفے ہو جائے گا اگر اس وقت پارٹی کو نہیں بتائیں گے اور ان کی مد سے بھی پاس کرنے کے بعدان کی خلاف مرضی استعفے دیے گے تو گویا آپ نے ان سے قریب کی کہ ان کی مدد سے بجٹ تو پاس کر لیا اور پھران کی خلاف مرضی استعفے دیدیا۔میری تو میں رائے ہے کہ اس وقت صرف یہ طے ہونا چاہیئے کہ اس مرحلے پر آپ استعفے دیں یا نہ دیں۔میں اپنی رائے بنا چکا ہوں کہ آپ کو استعفے دینا چاہئے آگے جیسے آپ مناسب سمجھیں۔اس گفتگو کے بعد نواب مظفر علی خان صاحب چند منٹ ٹھہر کر تشریف لے گئے ملک صاحب نے اسی سہ پر کیلئے پارٹی کا اجلاس اپنے دولت کدے پر طلب فرمایا اور خود گورنر صاحب سرالیوں جنکنز کو ملنے تشریف لے گئے۔گورنر سے کہا وزیراعظم اٹلی کے اعلان کے پیش نظر میں سوچ بچار کے بعد اس طرف مائل ہوں کہ مجھے اس مرحلے پر استعفے دے دینا چاہیئے لیکن پختہ فیصلہ کرنے سے پہلے میں نے آج سر پر پارٹی