تحدیث نعمت — Page 493
۴۹۳ حکومت برطانیہ کی طرف سے وزیر اعظم اٹلی نے اپنے ۱۲۰ فرور می عشاء کے بیان میں اعلان تقسیم ملک کا اعلان فرمایا کہ ب تقسیم مک کے بغیر چارہ نہیں ملک منظم کی حکومت ہندوستان کے نظم ونسق کے اختیارات ہندوستان کو سپرد کرنے کافیصلہ کر چکی ہے۔سپر مل در آمد کا طریق یہ ہوگا کی موت کے اختیارات صوبائی حکومتوں یا کسی متوانہی ادارے کے سپر د کر دیے جائیں گے اور اس طور پر تقسیم کی کار دائی کی تکمیل کی جائے گی۔اس بیان سے جہاں مجھے یہ اطمینان ہوا کہ آخر کار حکومت برطانیہ نے قیام پاکستان کے مطالبہ کو تسلیم کر لیا ہے وہاں مجھے اعلان کے اس حصے سے پریشانی بھی لاستی ہوئی کہ حکومت کے اختیارات عبوری مرحلے میں صوبائی حکومتوں کو تفویض کئے جانے کا بھی امکان ہے۔قائد اعظم کا برطانوی وند کے منصوبے کو منظور فرمالینا ان کے صاحب تدبر ہونے کا ثبوت تھا۔میری نظر میں برطانوی وفد کے منصوبے کا ایک قابل قدر پہلو یہ تھا کہ اس میں پہلے دس سال میں اکثریت کو موقعہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنے منصفانہ رویئے اور حسن سلوک کے ذریعے اقلیتوں کا اعتماد حاصل کریں اور انہیں یقین دلائیں کہ آزاد ہندوستان میں ان کے جائز حقوق کی مناسب نگہداشت ہوگی اور ان کے جذبات اور احساسات کا احترام ہو گا۔ہر چند کہ سابقہ تجربہ کچھ ایسا امید افزا نہیں تھاپھر بھی قائد اعظم کا اس منصوبے کو عملاً آن مانے پر تیار ہو جانا اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کا موقف کسی قسم کی ضد یا ہٹ دھرمی پر مبنی نہیں تھا۔بعد کے حالات سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کیر کانگریس کے بعض عناصر نے وند کے منصوبے کو تسلیم کرنے کی تائید غالباً اس توقع میں کی کہ مسلم لیگ اسے رد کر دیگی ور درد کی ناکامی کی قومہ داری لیگ پر ہوگی جس کے نیچے میں برطانوی حکومت کی نظروں میں پاکستان کا مطالبہ کرزور ہو جائے گا۔جب مسلم لیگ نے دن کا منصوبہ تسلیم کر لیا توان عنصر کا اندازہ غلط ثابت ہوا اور انہوں نے منصور و ناکام بنانے کی راہیں تلاش کرنا شروع کر دیں۔بہر صورت آخر نتیجہ یہ ہو کہ ہرصاحب فہم کی نظرمیں وند کی ناکامی کی ذمہ داری کانگریس پر عاید ہوئی اور پاکستان کا مطالبہ مضبوط نہ ہو گیا۔لیکن اس مقصد تک پہنچنے کا میلا مرحلہ جب سٹرائیلی کے اعلان کے مطابق بہ قرار دیا گیاکہ حکومت کے اختیارات صوبائی حکومتوں کو تفویضی کئے جائیں گے تو پنجاب کے حالات کے پیش نظر می متفکر ہوا۔ملک خضر حیات نمای صاحب | سر سکندر حیات خاں صاحب کی وفات کے بعد ملک سر خضر حیات خاں وزیراعظم پنجاب کا استعفیٰ صاحب پنجاب میں وزیر اعظم موئے ملک صاحب سردار صاحب کے ۱ رفقاء میں سے تھے اور ان کی جگہ لونیسٹ پارٹی کے سر براہ ہوئے لیکن یونینسٹ پارٹی کے عناصر میں جلد جلد بدیل ہورہی تھی۔پارٹی کی رکنیت میں تاریکی مسلم من کم ہو رہا تھا اورغیرمسلم عمر بھر ہا تھا۔صوبے میں لیگ کی تنظیم مضبوط ہورہی تھی اور لیگ کا رسوخ بڑھتا جارہا تھا یہاں تک کہ لیگ نے عدم تعاون کے مسلم لیا