تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 492 of 736

تحدیث نعمت — Page 492

ور دلا دیں کہ وہ منصوبے کی تمام شقوں پر منصوبے کی عبارت کے مفہوم کے مطابق عمل کرنے پر آمادہ ہیں اور کی اپنی خاصی تغیر پر اصرار نہ کر یں گے لیکن وہ رضامند نہ ہوئے۔وائسرائے کی ہر بات کادہ ہی جواب دیتے رہے تم نے منصوبے کو تمام و کمال تسلیم کیا ہے اور ہم اسے عمل میں لانے پر آمادہ ہیں لیکن اس کی تعبیر کرنا ہمارا کام ہے اور ہم مر ہیں کہ ہماری تعبی کو تسلیم کیا جائے۔وائسرائے نے پوچھا اگرآپ کی تعبیر اراکین وند کے منشاء کے مخالف بھی ہو تب بھی کیا آپ اس کی صحت اور قبولیت پر مصر ہوں گے ؟ گاندھی جانے کہا بیک دند اپنا کام ختم کر چکا ہے۔منصوبے کی تعبیر کے متعلق وند کا نشاعراب کوئی حیثیت نہیں رکھتا تعبیر کرنا اب ہمارا کام ہے۔وائسرائے نے کہا جب مسلم لیگ اور کانگریس نے منصوبے کوتسلیم کر لیا تو منصوبے کی حیثیت باہمی معاہد کی ہوگئی اسلئے اس کی تعبیر یہ لیگ اور کا نگر میں دونوں کا اتفاق ضروری ہے۔گاندھی جی اور پنڈت ہر دینے اسے بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اپنی بات پر مصر رہے کہ منصوبے کی تعبیر ہمارا کام ہے اور ہماری تعبیر کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔یہ موقف اپنی غیر معقولیت کے لحاظ سے اچنھا معلوم ہوتا ہے اور عام طبائع ایسی دو معزز شخصیتوں کے متعلق مندرجہ بالا بیان کو صحیح تسلیم کرنے میں حد دور بعد مقامل ہوتی ہیں۔لیکن اس کے صحیح ہونے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔دائیے کی بو گفتگو اس بارے میں گاندھی جی اور نیڈت جواہر لال نہرو سے ہوئی وہ " OF THE BRITISH RAI LAST DAYS کے مصنف مسٹر موسلے نے لفظا اپنی تصنیف میں درج کی ہے اور وہاں سے پڑھی جاسکتی ہے۔وزیر اعظم اٹیلی کی سہندوستان کی سالمیت | برطانوی وند کے منصوبے کا تو یوں خاتمہ ہو گیا۔پھر یہ قرار رکھنے کی آخری ناکام کوشش بھی وزیرا عظم سرائیلی نے ہندوستان کی سالمیت کو قائم رکھنے کی خاطر ایک آخری سعی یہ کی کہ قائد اعظم اور نیت نزد کو لندن آنے کی دعوت دی چنانچہ اواخر سواء میں یہ دونوں اصحاب لندن تشریف لے گئے۔قائد اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان صاحب کو اپنے ہمراہ لینے گئے اور پنڈت ہر د سر دار دیو سنگھ کو۔وزیر اعظم کی یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہوئی اور آخردہ بھی اس تھے پہنچے کہ ملک تقسیم کے غیرکوئی چارہ نہیں کرائے اور وزیر اعظم کی سال کی اس مختصر کیفیت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو کانگریسی قیادت نے کیبنٹ مشن کے منصوبے کو دل سے قبول ہی نہیں کیا تھا یا پھر قبول کرنے کے جلد بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ یہ منصوبہ انہیں قبول نہیں کرنا چاہیئے تھا۔اور بجائے اسے رد کرنے کی ذمہ داری اٹھانے کے انہوں نے تعبیر باندی کے ذریعے اس سے ٹھیکا را حاصل کرنے کی کوشش کی۔تاریخ شاہد کسی وقت اس عقدہ پر روشنی ڈال سکے۔بعد کے واقعات سے اس امر کی رورت تائید ہوتی ہے کیونکہ تجبر کا ہتھیا کہ کانگریسی قیادت کے لئے اکثر ایک بہت کار آمد آلہ ثابت ہوتارہا ہے۔**