تحدیث نعمت — Page 494
۴۹۴ 19۔فرابعہ یونینسٹ پارٹی کو حکومت سے بر طرف کرنے کی کوشش بھی کی۔اس کوشش میں تو لیگ بظاہر کامیاب نہ ہوئی لیکن رائے عامر مںمسلم لیگ کی وقعت بہت بڑھ گئی اور شہری حلقوں میں خصوصاً یک کالہ ہر کہ پیل گیا۔قائد اعظم نے اس سے قبل ہی ملک صاحب پر زور دینا شروع کیا تھاکہ وہ سلم لیگ یں شامل ہو کر اور الیگ سے مل کر کام کریں لیکن وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔انہوں نے سکندر جناح "پیکٹ کی آڑ لینے کی کوشش ی لیکن قائداعظم نے اس غار کو ایم نہ کیا کام کا وقت ایک پاکستان کا امام ہر اک سے منع ہے اور پرہیم سے سو فیصدی اس کی تائید ی ہیں لیکن صوبے کے حالت کے پیش نظر یونینسٹ پارٹی جو ایک غرف تر دارا نہ ارٹی ہے اور کی تشکیل اقتصادی مقاصد کی بنا پر رکھ گئی تھی علم حقوق کا بخوبی حفظ کرسکتی ہے۔اس کشمکش کے دوران میں برطانوی وزیر اعظم کا ۲۰ فروری ماہ کا اعلان ہوا انہیں کے رو سے پنجاب کے صوبے کے متعلق مرکزی اختیارات صوبائی حکومت کو تفویض ہوسکتے تھے۔اس وقت تک یونینسٹ پارٹی کی رکنیت میں مسلم اراکین کو کثرت حاصل ہو چکی تھی۔اگر اب میں پارٹی برسر اقتدار میان مسلم لیگ کے رستے میں اور قیام پاکستان کے رستے میں ایک بڑی روک پیدا ہو جاتی۔میں ملک سر خضر حیات خانی صاحب کو عرصے سے جانتا تھا اور میرے ان کے درمیان دوستانہ مراسم تھے۔جب تک میں حکومت ہند کا رکن رہا مجھے گر میوں کے موسم میں ملک صاحب کے ساتھ شملے میں ملاقات کے مواقع میسر آتے رہتے تھے۔جب میں حکومت سے علیحدہ ہو کہ فیڈری کوٹے میں چلا گیا تو ہمارے ملاقات کے مواقع کم ہو گئے اور میں نے سیاسی سرگرمیوں میں براہ راست حصہ لینا ترک کر دیاگو قومی معاملات میں میری دلچسی میں کوئی کمی نہ آئی۔اب اس مشکل مرحلے پر میری طبیعت بڑی شدت سے اس طرف مائل ہوئی کہ مجھے ملک صاحب کی خدمت میں گزارش کرنی چاہیے کہ پاکستان کے مطالبے کا تعلق اب صرف مرکز کی حکومت ے ساتھ نہیں رہا کیونکہ وزیر اعظم اٹلی کے اعلان کے مطابق حکومت کے اختیارات صوبائی حکومتوں کو تفویض ہوسکتے ہیں لہذا پنجاب میں اختیارات حکمت کا ایک ایسی پارٹی کے ان میں ہونا جس کی اکثریت فرمسلم تو مطالعہ پاکستان کی کمزوری کا باعث ہوگا۔مجھے کچھ حجاب بھی تھا کہ میں سیاسیات سے باہر ہوتے ہوئے اور پنجاب کے تفصیلی حالات سے واقفیت نہ رکھتے ہوئے ملک صاحب کی خدمت میں کوئی ایسی گذارش کردیں جسے وہ دخل در معقولات سمجھتے ہوئے قابل التفات نہ سمجھیں یہ جوں جوں میں وزیر اعظم برطانیہ کے اعلان پر غور کر تا میری پریشانی میں اضافہ ہوتا۔دو دن اور دو راتیں میں اسی کشمکش میں گزاریں۔رات کو آرام و سکون سے نہ سوسنے کا مجھے بہت کم الفاق ہوا ہے لیکن یہ راتیں میں نے بڑی بے چینی میں کائیں۔آخر میری صبح میں نے ملک صاحب کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں انکی زمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے گذارش کی کہ انہیں اس مرحلے پر وزارت سے استعفے دیکر مسل لیگ کا رستہ ناب میں صاف کر دینا چاہیے اور اس طرح اپنی ذمہ داری سے سرخو د ہو جانا چاہئیے۔اس خط کے ارسال کرنے کے تیرے