تحدیث نعمت — Page 437
م ہوئے دانت نظر آتے تھے۔پریا روڈ کے رستے جو سامان اتنی مشکلوں سے ملک کے اندر پہنچنا تھا ان میں سے دو تہائی انکی ذات ملکیت بنایا جاتا تھا جوان کی طرف سے پچور بازار میں کہتا تھا۔حکومت برطانیہ نے پچاس لاکھ پونڈ قرضہ خاص اعراض کیلئے نیا منظور کیا لیکن بات درمیان میں اس وجہ سے رہ گئی کہ حکومت برطانیہ مصر بھی کران کے نمائندے دینی اس ترقی پر نگاه یکی تا که به رو میان اعراض پر فوج ہو کے لئے یہ دیا جائے۔میرے واپس پہلے آنے کے کچھ عرصہ بعد یہ خبر شائع ہوئی کہ جنرل جہانگ کانی شیک نے انہیں اپنے منصب سے علیحدہ کر دیا ہے۔است ۱۹ میکی گر سونامی جنگ کنگ پر اسقدر بمباری ہوچکی تھی کہ رہائش کا روبان ، در انتیس کیلئے جگہ کی گرما بہت تنگی تھی۔برطانوی سفر نے از راہ نوازش اپنے سفارت خانے کی نیم بخند عمارتوں میںسے دو کرے ہمیں بھی عنایت کر دیئے جو ہماری دفتری ضرورتوں کیلئے کافی تھے۔ہندستان سفاری کاروبار تو کوئی ایسا تھا نہیں اسلئے اس سارے عرصے میں جومیں نے جنگ کنگ میں گذارا مجھے بھی عام الفرمت کی شکایت نہیں ہوئی جبکہ میری طبعیت کے انسان کیلئے ٹھنگ کنگ میں وقت گذارنا سب سے دشوار مسئلہ بن گیا۔حکومت کے وزیر خارجہ خو د جنرل جہانگ کائی شیک تھے۔ان کا ایک مکان شہرمیں بھی تھا لیکن انکی رہائش زیادہ عرصہ جنوبی کنارے کے پہاڑی سلسلے کے عقب میں مطار کے قریب شہر سے دس بارہ میل کے فاصلے پر تھی درمیان میں گیسی دینا پڑتا تھا۔جس پر سے انہیں معہ ہو گا۔FERRY سے گذارنا ہوتا تھا۔بہت ساوقت انہیں مختلف علاقوں کے دوروں پر بھی صرف کرنا ہوتا تھا۔ان کے متعلق کچھ نہ طور پر علم نہیں ہوسکتاتھا کہ کب جنگ کنگ میں تشریف فرم ہوں گے۔اسلئے ان تک رسائی بہت مشکل تھی۔انہوں نے دو نائب وزیر خار یہ مقریر کر رکھے تھے ان میں سے ایک مٹرسن خو ستھے ہوئن بیٹے سین صاحب کے ساجزاء سے تھے نائب وزراء کے فرائض کی تقسیم کے لحاظ سے میرا کا ان کے ساتھ ہواکرتا تھا میری درخواست پر انہوں نے یہ تجویز منظور کرلی تھی کہ میں ہربدھ کے دن دس بجے قبل دو پر انکی خدمت میں حاضر ہو جایا کروں اور جو کچھ تھوڑا بہت سرکاری کام مورد ان کے ساتھ طے کر لیا کریں۔اس ملاقات کے دوران میں وہ مجھے ملک کے عام حالات سے اور خصوصاً جنگ کے کوائف سے بھی مطلع فرما دیا کرتے تھے یعنی اصحاب نے تکلفانہ گفتگو کرنے کے عادی نہیں تھے بلکہ اس طرق کو غیرمندی شمارکیا جاتا تھا۔ریلی لوگوںکے اوران کے درمیان ایک دیوار حائل رہتی تھی تواضع اور خوش خلقی کے تقاضوں کو تو وہ بوحد حسن پورا کرتے تھے لیکن کا اعتماد نہیں کسی غیرملکی پر نہیں ہوتا تھا۔میں نے اتنا ضرور محسوس کیا کہ اس لحاظ سے وہ ایشیائی اور غیر ایشیائی کے درمیان ایک خفیف مزنگ فرق ضرور کرتے تھے ایک روز برطانوی سفینے مجھ سے کہا مجھے پنی حکومت کیطرف سے ایک اہم پیغام جزای چیانگ کائی شیک کو جلد از جلد پہنچانے کی ہدایت ہوئی ہے۔میں نے ان سے ملاقات کی درخواست کی ہے لیکن ممکن ہے اس انتظار میں دو ہفتے گذر جائیں اور یہ معلوم کب ملاقات کا موقعہ میں آئے۔میں نے سنا ہے کہ تمہیں نائب وزیر خارجہ سے ہر سہنے ملاقات