تحدیث نعمت — Page 436
سوم بعد دوپہر ہوائی جہاز جنگ کنگ پہنچتا تھا اگر دریائے نی میں بیان نہ ہوتی تو ہوائی جہانہ دریاکے طغیانی در پالوں کے درمیان ایک خشک قلعے پر انتم تا اگر دریای بیانی ہوتی اور یہ قطعہ زیر آب و جانا تو جہانہ ہو جنوبی کنارے کی پہاڑیوں کے سمجھے مار پیا ت تا جہاں سے شہر پہنچنے میں ڈیڑھ دو گھنٹے صرف ہوتے۔جن دنوں تم تاجہاں ہم نے سفر کیا یہ قطعہ خشک تھا اور ہم دریائے ٹیکسی کے درمیان اتر سکے۔برطانوی سفر سر موریس سیمور کی طرف سے ان کے فرسٹ سیکر یٹری ہماری پیشوائی کے لئے موجود تھے عملے کے دونوں صاحبان کی عار منی پاش کیلئے شہر میں انتظام کیا گیا تھا۔میجر ندیم احمد صاحب فرسٹ سیکریٹری کے ہاں مہمان ہوئے اور مجھے سفر مصاب ے اپنے ہاں ٹھہرایا جا یا اللہ ہماری مستقل قیام گاہ کے لئے تو جنوبی کنارے کے پہاڑی سلسلے پر ایک جنگلہ لیا گیا تھا جو امپیریل کیمیکل انڈ سرینہ کی ملکیت تھا۔لیکن وہاں تک پہنچنے کے لئے وقت ور کا نہ تھا اس لئے سفیر صاحب نے میجر صاحب کی اور میری پہلے دن کی رہائش کا۔۔۔۔۔انتظام اپنے فرسٹ سیکریٹری کے ہاں اور اپنے ہاں کر دیا تھا۔دوسرے دن ہم اس بنگلے میں گئے۔یہ نگر ہار لئے نعمت غیرمترقبہ تھا۔بلندی پر درختوں کے جھنڈ میں واقعہ ہونے کی وجہ سے جوان تھی اور گرمی سے بھی بچاؤ تھا۔میر صاحب کے ساتھ ہونے کی وجہ سے مجھے انتظام کے متعلق کوئی پریشانی نہیں تھی۔ولی سے ہم سید عبدالکریم کو تھ لے گئے تھے۔ہاؤس بوائے باورچی اور مامائی مقامی تھیں۔جنگ کنگ میں قیام چینگ کنگ میں عام ضروریات زندگی کامہیا ہو جان اللہ کے فضل پر مصر تھا اے ملک میں سوائے شمالی اور مغربی علاقوں کے تازہ دودھ تو کہیں ملتا نہیں۔اسلئے وہی مکھن وغیرہ بالکل تا یا۔تھے ہوئی شکیل سکتی تھی مگر کسی قدر مشکل سے مجھے شکریہ نے سے کوئی پریشانی نہیں تھی کیونکہ میرے لئے زبانیں کی وجہ سے شکہ کا استعمال منع تھا۔مرغی مل جاتی تھی جسے سید عبدالکریم و بج کر لیتے تھے۔ہم مرغی کا گوشت " " استعمال کرتے تھے۔ہر شے گراں تھی اور دن بدن گراں تر ہوتی جارہی تھی۔چینی شرفاء اور اس طبقے کیلئے بن کے مشاہرے مقرر تھے یہ ایام بہت سختی اور پریشانی کے تھے۔رشوت عام تھتی ہیں تو اس سے سابقہ نہیں پڑتا تھا لیکن یہ کوئی چھپی ہوئی بات پہنی تھی۔خود خبری چھیانگ کائی شیک کا دامن ایسے تمام شبہات سے پاک تھے لیکن ان کے علاوہ سارے ملک میں مشکل سے ایک در حین افسر ایسے ہوں گے جو ایسی کاروائیوں میں ملوث نہ ہوں ان کے تم زلف مسٹرنگ کی جوان یہ خزانہ تھے عام شہرت تھی کہ وہ کھلے بندوں چور بانداری کے سلسلے میں بڑے یمانے پر سرداری کرتے ہیں۔ملک میں استقدر مصیبت اور پریشانی کا زمانہ تھا اور سر کنگ دونوں کلائیوں پر سونے کی گھڑیاں پہنے پھر تے تھے۔واسکٹ کی ایک جیب سے دوسری جب تک سونے کی موٹی زنجیر کھتی تھی۔بیسیوں میں حجر کچھ تھا وہ تو نظر نہیں آتا تھا۔لیکن جب بولتے تھے یا ہنستے تھے تومنہ کے اندر سونے کے دانت یا سونا پڑے