تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 438 of 736

تحدیث نعمت — Page 438

۴۳۸ کا موقعہ ہوتا ہے اگر تم اجازت دو تو میں تمہیں ایک لفافہ ان کے نام دیدوں میں ممنون ہوں گا اگر آئندہ ملاقات کے موقعہ پر تم وہ لفافہ میری طرف سے انہیں پہنچا دو۔حکومت کی طرف سے پیغام تو میں خود ہی جنرل چیانگ گائی شیک کو پہنچاؤں گا لیکن تمہارے ذریعے نئب وزیر خارجہ کو طلا کردینے سے مجھے یہ اطمینان ہو جائیگا کہ ہمیں عراق کے اختیارہ کرنے میں جوتا غیر موئی اس کا انہ الہ ایک منزتک ہو جائے گا۔مجھے جیت تو موٹی لیکن میں نے ان کے ارشاد کی تعمیل با تامل کردی میرا اندازہ تھاکہ ایسی بے قاعدگی جنگ کے نتیجے میں پیدا شدہ غیر معمولی حالات ہی میں ممکن نھیں۔لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا تھا کہ ایک ایشیائی نمائندے کو ایک مغربی نمائندے کی نسبت کسی قدر زیادہ مراعات حاصل نخس۔ر رحیہ ڈٹا تخمین میں نے جلد اندازہ کر دیا کہ ہفتے میں تین بار دفتر جانے سے میں اپنے فرائض منصبی کو پورے طور پر سر انجام دیکھتا ہوں۔ان میں سے دور ضرور کی اور مستقل فرائض تو نائب وزیر خارجہ سے ملاقات اور سر اولف گیرد حکومت ہند کے سیکریٹری امور خارجہ کے نام مقتدر وار خطار کا کرنا تھا۔دفتر میں وقت فارغ میسر آجاتاده میں سر چہ نائیجین کی صحبت میں گزارنے کی کوشش کرتا۔سر رچرڈ برطانوی سفارت خانے میں چینی امور کے ماہر اور مشیر خصوصی تھے۔وہ چین کے حالات پر ملتی پھرتی ان شکلو پیڈیا تھے۔ایک سبا عرصہ معین میں گزار چکے تھے اور چینی زندگی اور چینی سیاست کے ہر پہلو سے خوب واقف تھے۔وہ بڑے تھے اسلئے جب پھلتے تھے تو ایسا معلوم ہو تھا کہ منہ کے بل اوندھے مل رہے ہیں۔باند لیے تھے چہرے پر جھریاں تھیں رنگ زرد تھا لیکن آنکھیں روشن تھیں اور ان میں خاصی چمک تھی۔پیشانی فراخ تھی۔انکی صحبت میں ایک گھنٹر منا رس جلدوں کے مطالعہ کی نسبت زیاد مینید نتیجہ خیز اور کار آمد تھا۔میرے سیکر برای سریہ چہ ڈسن اپن ملازمت کا کچھ عرصہ تبت میں گزار چکے تھے اور تبت کے حالات اور وہاں کی ثقافت اور معاشرت سے خوب واقف تھے اور ان کے مداح تھے۔وہ بھی سر چپہ ڈٹائٹینین کے مشورے سے مستفید ہوتے رہتے تھے۔سرچہ میرے ہندوستان واپس آنے کے تھوڑا عرصہ بعد اپی سجادہ ملازمت پوری کرکے پیٹ پر چلے گئے اور ان کو میںاپنے آبائی مسکن می رہائش اختیار کرلی۔ان کی موت بہت افسوسناک طریق پر وقوع میں آئی۔ایک روزہ و صندلی روشنی میں اپنے مکان کے قریب جنگل میں پھر رہے تھے کہ ایک شکاری نے چوپایہ سمجھ کر کھانا لے سے ان پر گولی چلا دی کسی اور قیاس یا شبہے کی گنجائش نہیں تھی اسلیئے اس کے بیان کو قبول کر لیا گیا۔" میں سوموارہ، بدھوارہ اور جمعہ کو دفتر جانا تھا۔اس کے علاوہ میرا شہر جانا کسی ایسے موقعہ پر ہوتا جب کسی سرکاری یا غیرسرکاری تقریب میں میری شمولیت ضروری یا مناسب ہوئی، جنگ کنگ میں گرمی اور تمہیں سے بہت تکلیف اٹھانا پڑتی تھی۔اسلئے دفتر جانے کیلئے ہم صبح 4 بجے ناشتہ کرتے اور بجے تک روانہ ہو جاتے۔