تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 277 of 736

تحدیث نعمت — Page 277

بھی وارث ہوتیں اور انہیں بھی حصہ ملتا۔متوفی کے والد کی وفا پر متوفی اپنے باپ کی حملہ امداد کا وارث ہوا۔مامامعلیم کو بیٹیاں ہوتے ہوئے کوئی حصہ نہیں ملا۔کا غذات مال بر طانوی عملداری سے پہلے کے دستیاب نہیں ہو سکتے لیکن قیاس یہی ہے اور قرائن سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس عملداری سے پہلے بھی بیٹیوں کو وراثت میں کبھی حصہ نہیں ملا۔تمام دیہ مں کوئی عورت مالک نہیں۔جسقدر شہادت مسل پر موجود ہے سب رواج کی پابندی کی تائید میں ہے۔رواج کے خلاف یا شریع محمدی کی کے اطلاق کی تائید میں کوئی ایک مثال بھی نہیں۔اس سے بھی نتیجہ اخذ کی جانا چاہیے کہ فریقین رواج کے پابند ہیں۔عدالت ابتدائی کے فیصلے میں دو نظائر درج ہیں جن میں قرار دیا گیا ہے کہ رواج کے مطابق یکجریوں کے مقابلہ پر خواہ کتنے عیدی ہو ہمشیرگان کا حق دورات فائق نہیں۔سوائے اس کے کہ کسی خاندان یا قبیلے میں خاص رواج ان کے حق میں ثابت ہو۔اس منفر میں نہ خاص رواج پیر الحصارہ کیا گیا ہے نہ اس کی تائید میں کوئی ثبوت پیش کیا گیا ہے۔دس وجوہ گذارش ہے کہ اپیل منظور ہو کر عدالت ابتدائی کا فیصلہ محال ہونا چاہیئے۔کوئی دو ہفتے بعد مٹر ڈولڈ نے مجھے تلیفون پر بتایا بریلوی کونسل کے دفتر سے فیصلہ جات کی تو اطلاع آئی ہے اس میں درج ہے کہ ہماری اپی منظور ہوئی لیکن یہ وضاحت نہیں کہ پہلے سوال پر ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ ہو کر مقدمہ ہائی کورٹ کو واپس ہوا یا دونوں سوالوں کا فیصلہ ہمارے تھی میں ہو کر عدالت ابتدائی کا فیصلہ محال ہوا۔میں کل پر پوری کونسل کے دفتر میںجاکہ معلوم کروں گا اور تمہیں اطلاع دوں گا۔اسی شام مہاراجہ در کھنگہ کی طرف سے ہو صوبہ بہار کے بڑے زمیندار تھے اور گول میز کانفرنس کے رکن تھے اپنے کیوں جنم دن کی تقریب پر بڑے پیمانے پر سوائے ہوٹل میں ڈنہ دیا گیا جس میںگول میز کانفرنس کے اراکین کے علاوہ بہت سے اور مغرند مہمان بھی مدعو تھے۔ان میں لارڈ بلیز بیر بھی تھے۔میںنے سلام کیا تو انہوں نے میری طرف غور سے دیکھا اور پہچان کہ بڑے تپاک سے کہا۔تم وہی نوجوان ہو جس نے کچھ دن پہلے پر لوری کونسل میں ہماری علمی کوعلم کی روشنی میں بدل دیا تھا۔سے نہیں علم ہوا کہ ہم نے کا فیصلہ صادر کیا ہے ؟ میں نے جوکچھ مٹر ڈولڈ سے معلوم ہوا تھا گذارش کیا۔فرمایا انہیں م نے کیں واپس نہیں کیا ہم نے اپیل منظور کر کے ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کیا ہے اور عدالت ابتدائی کا فیصلہ بحال کیاہے اور تمام عدالتوں کا خیر چه مدعیان کو دلایا ہے۔ہم نے دو سب کچھ کیا ہے جوتم نے کہا کسی بات میں ہم نے تمہاری استند عار نہیں کی۔پھر شفقت سے میرا بازو پکڑ لیا اور کہا آؤ میں تمہارا تعارف لارڈشا سے کراؤں جنہیں ہم پر لوری کونسل میں اپنا گرد مانتے ہیں ، ان کے سامنے بھی میرے متعلق تعریفی کلمات کہے اور فرمایا۔اگر تم بدھ کی صبح کو مرے ساتھ ناشتہ کردو تو میرے لئے بڑی خوشی کا بانت ہو گا۔بدھ کے دن پریوی کونسل کا اجلاس نہیں ہوتا اور ہم فراغت سے گفتگو کر سکیں گے۔اس موقعہ پہ لارڈ میکملن سے بھی میری ملاقات ہوئی انہوں نے بھی کوئی تعریفی جملہ کہا۔میں نے ایک رانہ جواب دیا تو انہوں نے اس رنگ میں کہ گویا میں نے ان کی رائے سے اختلاف کرنے میں بے جا عورت کی ہے فرمایا۔