تحدیث نعمت — Page 276
شہادت ہیں میسر آسکتی ہے۔یہ شہادت پشت در پشت زبانی روایت کے ذریعے ہی قائم ہوسکتی ہے۔زبانی شہاد شجرہ نسب کی تصدیق کرتی ہے۔اور شجرہ نسب زبانی شہادت کی تصدیق کرتا ہے۔میرائی کی شہادت بھی متعلق اور قابل پذیرائی ہے۔میرانی اگر چہ خاندان کا فرد نہیں لیکن خاندان کا شجرہ یاد رکھنا اس کا فرض منصبی ہے۔میراثی نام ہی خاندان کے سلسلہ وراثت کو محفوظ رکھنے والے کا ہوتا ہے۔ان لوگوں کا سلاً بعد نسلاً یہی کام ہوتا ہے اور دہ خاندان میں ہر شادی کے موقعہ پر یہ شجرہ نسب بلند آواز سے بیان کرتے ہیں۔اس بیان کو کلان کرنا کہا جاتا ہے۔لالہ ڈبلیز برگ۔کیا ان کے پاس شجرہ نسب لکھا ہوا ہوتا ہے ؟ ظفر اللہ خاں نہیں جناب عالی یہ لوگ تو عمو با لکھ پڑھ نہیں سکتے لیکن یہ ان کا پیشہ ہے۔ان کا حافظہ بہت تیز ہوتا ہے اور یہ بچپن میں پرانے موکل خاندان کا شجرہ نسب حفظ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔لارڈ بلیز برگ کے دلچسپی کے اظہار پر مں نے تھان کرنے کا طریق بیان کیا اور اپنے خاندان سے اس کی مثال دی لارڈ بلیز برگ نے اپنے رفقاء سے مشورہ کرنے کے بعد فرمایا بشجرہ نسب کے متعلق سمارا اطمینان ہے کہ مدعیان متوفی کے یک بعدیان ہیں اور سیر وکیل صاحب کو ارشاد فرمایا کہ قانونی مسئلے کے متعلق بحث کریں۔انہوں نے گذارش کی کہ ہائی ورٹ نے قانونی مسئلے پرکسی رائے کا اظہار نہیں کیا بہتر ہو اگر اس مسلے کے فیصلے کے لئے مقدمہ ہائی کورٹ میں واپس بھیج دیا جائے۔ارڈ بلیز برگ۔اس مقدمے کو دائر ہوئے دس سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور قانونی مثل کالے کرنا سما رہے لئے ویسے ہی آسان ہے جیسے ہائی کورٹ کے لئے۔اگر آپ پسند کریں تو اپنے جونیر کو قانونی مسئلے پر محبت کرنے کی بھی اجازت دیدیں۔قانونی مسئلے پربحث کیلئے سنٹر وکیل تیار تھے نہ میں تیار تھا۔ہمارا اندازہ تھا کہ اگر شجرہ نسب پر بورڈ کا اطمینان ہو گیا تو مقدمہ ہائی کورٹ میں واپس ہو گا۔اور در اصل میں نے تو کوئی تیاری کی نہیں تھی۔میں تو محض پر بیوی کونسل کا اجلاس دیکھنے گیا تھا۔جب لارڈ بلیز برگ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ قانونی مسئلے پر بھی میں بحث کروں تو سیر وکیل ضاحت نے فورا کر ضامندی دیدی اور میرے لئے کوئی چارہ نہ رہا۔میں نے عرض کیا جناب عالی پنجاب لاند ایکٹ کی دفعہ ۵ کی رو سے صوبہ پنجاب میں درانت اور بعض دیگر معاملات کے متعلق تنازعات کا فیصلہ رواج کے مطابق ہونا چاہئے۔اگر کوئی رواج ثابت نہ ہو اور فریقین مسلمان ہوں تو شریع محمدی کا اطلاق ہوگا۔اور فریقین سہندو ہوں تو دھرم شاستر کا فریقین مقدمہ قریشی ہیں لیکن ان کی یہ ہائش دبیات میں ہے اور وہ عرصہ سے مالکان الا منی چیلے آتے ہیں اور ان کا گذارہ بھی کاشت اراضی پر ہے۔تین بہشت سے دراشت بروئے کا غذات مال مطابق رواج تقسیم ہوتی چلی آئی ہے جس کا پختہ ثبوت یہ ہے کہ کسی پشت میں بیٹوں کی موجودگی میں بیٹیوں کو حصہ نہیں ملا اگر شروع محمدی کا اطلاق ہوتا توبیٹیاں