تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 278 of 736

تحدیث نعمت — Page 278

۲۷۸ NONSENSE! WE KNOW A GOOD THING WHEN WE SEE ONE ان عالی مرتبہ شرفاء کا خلق مستند بلند اوران کی فیاضی کا سمندر کسقدر وسیع تھا مجھ ایسے نو آموز کے متعلق اتنا ذرہ نوازی میرا دل اللہ تعالی کے شکر اور حمد سے ھر گیا در میری اپنی ہستی کا ہر وہ اسکی درگاہ عالی کی دہلیز پر یہ کہتے ہوئے سجدے میں گرگیا۔میں کیا اور میری بساط کیا۔کانفرنس میں برطانوی نوا ہوں ، وزرا اور سیاستدانوں ، شہرستانی انستان والمیان نه یاست اور سیاسی راہنماؤں کے درمیان ایک مہندی۔مملکت عظمی کے اس نقار خانے میں ایک طوطی کی حیثیت بھی ند رکھنے والا۔مبصروں اور آزمودہ کا ر ہنماؤںکے درمیان نو آموز ! تو نے محض اپنے لطف وکرم سے مجھے توفیق بخشی کر میں بھی کوئی کام کی بات کہ سکوں۔پریوی کونسل میں میں ایک نوار و تونے مجھے محض اپنے فضل و رحم سے اس معمے کی چابی سمجھادی جو جوں کے ذہن کو پریشان کر ر ہا تھ اور ان کے دلوں کو میری طرف مائل کر دیا محلات لك روحی و جنانی۔پہلی گول میز کانفرنس کا آخری اجلاس کا نفرنس کے آخری اجلاس میں وزیر اعظم میڈ انڈہ خود صدارت فرما رہے تھے۔حاضری سو فینیسادی تھی۔ہال کے وسطی حصہ میں بہت بڑے بڑے کمرے رکھے تھے ان کیمروں کے لئے خاص روشتنیکا انتظام تھا۔جس کی وجہ سے مال میں حسیں ہو رہا تھا اور خاصی گرمی محسوس ہو رہی تھی صرف چند نمائندوں کیلئے چند جملے کہنے کا موقعہ تھا۔مجھے کوئی خواہش نہیں تھی کہ میں اس اجتماع عظیم میں لب کشائی کروں اگر ایسی خواہش ہوتی بھی تو کوئی توقع نہیں ہوسکتی تھی کہ وزیر اعظم صاحب جن کی نگ میں ڈر کوئی شخصی حیثیت نہیں تھی اور جو یقینا گیرا نام بھی نہیں جانتے تھے مجھے بولنے کا موقعہ عنایت کریں۔لیکن میرے دل میں ایک خلش تھی کا نفرنس کے دوران میں کمیٹیوں کے اجلاسوں میں طبعاً مسلم نمائندگان تحفظ حقوق کی خاطر اپنے مطالبات پر زور دیتے رہے تھے ان کا موقف یہ رہا کہ ہم آزادی اور مساوات کی طرف جلد جلد قدم اٹھانا چاہتے ہیں لیکن یہ آزادی حرف بیرونی اقتدار سے آزادی تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔بلکہ اندرون ملک بھی جائنہ آزادی حاصل ہونی چاہئیے۔اور یہ عادات صرف بیرونی اور بین الاقوامی ہی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ملک کے تمام طبقوں کے درمیان مسودات ہونی چاہئیے۔اور یہ صورت حلات عملاً قائم کرنے اور مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اقلیتوں کسیاسی، معاشرتی، تمدنی اور ثقافتی حقوق اور اقتدار کی آئینی حفاظت کا سامان کیا جائے لیکن ہمارے موقف کو بعض بر طانوی اور ہندوستانی عناصر کی طرف سے بگاڑ کر پیش کیا جاتا تھا اور یہ تاثر پریس کے ذریعے اور دیگر ذرائع سے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی که مسلمان آزادی کے رستے میں روک بن رہے ہیں۔میں چاہتا تھا کہ اس آخری اجلاس میں ہمارے موقف کی وضات میں ایک دو فقرے کہ دیئے جائیں جو اس تاثر کو نہ مل کرنے میں محمد ہوں۔میں انتظار میں رہا لیکن میری یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہ آئی آر میں نے اپنا ہاتھ اٹھایا کرتایر وزیرا عظم کی قل انتخاب مجھ پر بھی پڑے۔حسن اتفاق سے مٹر مینڈرسن (جن کی صدارت میں میں کام کر چکا تھا اور بود زیرا عظم کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے کی نظر مجھ پر پڑی