تحدیث نعمت — Page 162
چیف جسٹس صاحب کے سامنے پیش کر دیے گئے۔جب چیف جسٹس صاحب کا اطمینان ہو گیا کہ جو کا غذات انہوں نے طلب فرمائے تھے وہ مہیا کر دیے گئے ہیں۔تو انہوں نے پیش کارہ صاحب سے فرمایا یہ کاغذات مسٹر مظہر الحق کو دیدیں وہ خود بھی دیکھ لیں اور اپنے دوست کو بھی دکھلاویں مسٹر مظہر الحق نے خود دیکھ لینے کے بعد کا غذات مجھے دیدیئے۔ان کا غذات سے معلوم ہوا کہ متعلقہ قاعدے کی عبادت میں سے لفظ چارہ ٹروڈ سمزن کر دیا گیا ہوا ہے۔نسبحان الله والحمد لله تھوڑی دیر بعد زیر سماعت متقدمے کی بحث ختم ہو گئی اور چیف جسٹس صاحب نے مٹر مظہر الحق صاحب سے دریافت کیا اب تو کوئی عذر نہیں۔انہوں نے کہا اب کوئی روک نہیں۔اس پر چیف حبس صاحب نے فرمایا پیروی کرنے کی اجازت دیجاتی ہے۔اب چار بجنے کو ہیں۔اجلاس کل صبح دس بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے کل پہلا کیس یہی ہو گا۔دوسری صبح اجلاس شروع ہونے پر چیف جسٹس صاحب نے مجھ سے دریافت کیا تم بحث کرنے کیلئے تیارہ ہو۔ظفر اللہ خاں۔سناب عالی ! میری ایک گزارش ہے۔آپ کے سامنے دو بالمقابل اپیل ہیں دونوں ماتحت عدالتوں نے قرار دیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد مسلمان ہیں اور مسجد میں فرداً فرد یا دور ہے نمازیوں میں شامل ہو کر با جماعت نماز ادا کر سکتے ہیں۔لیکن احمدی امام کی قیادت میں علیحدہ با جماعت نماز ادا نہیں کر سکتے۔ہمارا مطالبہ اپیل میں صرف اس قدر ہے کہ ہمیں مسجد میں احمدی امام کی اقتدا میں نمازہ یا جماعت کی بھی اجازت ہونی چاہئے۔فریق مخالف ماتحت عدالتوں کے فیصلے کے کسی حصے کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ان کا مطالبہ اپیل میں یہ ہے کہ احمدی جماعت کے افراد مسلمان ہی نہیں اسلئے مسجد میں داخل ہونے کے مجازہ نہیں۔اور مسجد میں کسی صورت میں نماز ادا کرنے کے حقدار نہیں۔یہ واضح ہے کہ اگر فریق مخالف اپنے مطالبے میں کامیاب ہو جائے تو ہمالہ کی اپیل لانہ ہا ساقط ہو جاتی ہے اگر احمدی مسلمان ہی نہیں تو ان کا مسجد کے ساتھ کیا واسطہ۔اس لئے مناسب ہوگا کہ عدالت پہلے فریق مخالف کے اپیل کی سماعت کرے۔اگر بحث سماعت کرنے کے بعد عدالت کی رائے ہو کہ احمدی مسلمان نہیں تو ہماری اپیل کی سماعت پر وقت صرف کرنا غیر ضروری ہوگا۔چیف جس۔معقول تجویز ہے۔مسٹر منظر الحق آپ بحث شروع کریں۔مسٹر مظہر الحق۔جناب عالی ہم نے ابھی یہ طے نہیں کیا کہ ہم اپنی اپیل پر زور دیں گے یا نہیں چیف جیسی۔بالفاظ دیگر آپ ابھی بحث کیلئے تیاری نہیں۔(مجھ سے مخاطب ہو کہ کیا تم 1 i