تحدیث نعمت — Page 161
141 فریق کا وکیل لاہور سے آیا ہے اور ایک مفتہ سے سماعت کا منتظر چیف جٹس۔اچھا یہ وہ کیس ہے جس کے متعلق مجھ سے کہا گیا تھا کہ غیر مسلم حج ان مسائل کی پیچیدگی کو سمجھ سکتا ہے نہ ان کے متعلق کسی فیصلے پر پہنچ سکتا ہے۔مسٹر مظہر الحق۔جناب من ! میں نے ہی آپ کی خدمت میں یہ گذارش کی تھی۔لیکن میں نے صرف یہ کہا تھا کہ مناسب ہو گا اگر عدالت کے واحد سلم حج سماعت میں شریک ہوں۔چیف جسٹس۔اچھا تو دوسرے فریق کی طرف سے کون پیش ہے ؟ - ظفر اللہ خان۔جناب عالی میں تحکیم خلیل احمد وغیرہ کی طرف سے پیش ہونے کی اجازت چاہتا ہوں۔میں لیکنر ان کا بیرسٹر ہوں ، لنڈن ہائی کورٹ اور سر پنجاب چیف کورٹ کا ایڈوکیٹ ہوں۔مسٹر نور شہید جنین میرے ساتھ نمائندگی میں شامل ہیں۔چیف جسٹس۔ہمیں اجازت دینے میں کوئی روک نظر نہیں آتی۔مسٹر مظہر الحق۔جناب عالی میں کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہتا۔لیکن بادب آپ کی تو یہ متعلقہ قاعدے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔چیف جسٹس قاعدے کی شرائط تو پوری موجود ہیں۔مسٹر مظہر الحق - سجناب عالی ! قاعدے میں چارٹرڈ انڈین ہائی کورٹ کا ایڈوکیٹ ہونے۔۔کی شرط ہے اور میرے فاضل دورست پنجاب چیف کورٹ کے ایڈوکیٹ ہیں۔چیف جسٹس۔پنجاب چیف کورٹ کا درجہ بھی ہائی کورٹ کا ہے۔مسٹر منظر الحق - ضابطہ دیوانی کی رو سے بیشک پنجاب چیف کورٹ ہائی کورٹ شمار ہوتی ہے لیکن وہ عدالت چارٹر کی بنا پہ قائم نہیں ہوئی۔اسلئے چار ٹر ٹر ہائی کورٹ نہیں۔ظفر اللہ خاں۔جناب عالی میرے فاضل دوست کیا فرماتے ہیںپنجابی کو اور ان کو ایک رات پایایی چیف جسٹس۔پھر تم کیا کہتے ہو ؟ ظفر اللہ خال - جناب عالی عدالت کو اختیار ہے کہ وہ کسی ایڈوکیٹ کی بحث بحیثیت مشیر عدالت سن لے۔چیف جنسی۔اگر متعلقہ قاعدے کے الفاظ رستے میں روک ہوں تو مشکل ہوگئی۔لیکن مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہم نے حال ہی میں اس قاعدے میں کچھ ترمیم کی ہے۔پیشکار جبرا ر سے وہ کا غذات منگوالو اور اتنے عرصے میں اگلے کیس کے دکار کو بلا لودہ کیس مختصر سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔اگلے کیس کی سماعت شروع ہوگئی اور اس کی سماعت کے دوران میں مطلوبہ کا غذات بھی