تحدیث نعمت — Page 163
تیار ہو۔؟ ظفر اللہ خاں۔جناب میں تیار ہوں۔بحث شروع ہوئی۔میں یہ کر سکتا تھا کہ اس مرحلے یہ اپنی بحث کو اس فقہی مسئلے تک محدود رکھتا کہ ایک مسجد میں ایک نمانہ کیلئے دو جماعتیں ہو سکتی ہیں یا نہیں۔اور اس مسئلے پر کہ احمدی مسلمان ہیں یا نہیں بحث کی ابتداء مظہر الحق صاحب کے ذمے چھوڑ دیتا لیکن میں نے یہ طریق اختیار کرنا پسند نہ کیا۔عدالت پر یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ مظہر الحق صاحب اس بنیادی زیر ستارہ مسئلے پر بحث کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔میری طرف عدالت کا رویہ اس وقت تک مہمدردانہ تھا۔اس بنیادی مسئلے پر ہمارا موقف مضبوط اور قرین الضان تھا۔میرے لئے موقعہ تھا کہ میں ججوں کے خالی فرمین میں پہلے اپنا نقش حمالوں۔اور دونوں مسائل پر بیک وقت اپنے دلائل پیش کر دوں منظہر الحق صاحب جوابی تقریہ دونوں مسائل پر کریں اور مجھے دونوں کے متعلق جواب الجواب کا موقعہ ہو۔یہ طریق اسلئے بھی لازم ہو گیا تھا کہ طبعاً مجوں کے ذرمین اس مسئلے پر روشنی کے خواہاں تھے کہ احمدی جماعت کے عقائد کیا ہیں اور کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ احمدی مسلمان نہیں۔میری بحث کو عدالت نے تو جہ سے سنا اور جوں کا رویہ منقوا تمہ ہمدردانہ رہا۔ممکن ہے اس کی وجہ یہ بھی ہو کر دیکھتے تھے کہیں ایک تجربہ کار مبتدی وکیل ہوں اور تن تنہا۔(خورشید حسین صاحب بحث شروع ہو جانے کے بعد چند منٹ کیلئے تشریف لائے تھے اور پھر اپنے دور سے کام کی پیروی کیلئے تشریف لے گئے تھے۔تجربہ کار وکلاء کی ایک مضبوط ٹیم کے مقابل کھڑا ہوں۔فریق مخالف کی جانب منظہر الحق صاحب ، محمد یونس صاحب، محمد طاہر صاحب، سند اور وکلاء اور ایک گردہ علماء کرام کا جم کر بیٹھا ہوا تھا۔اور میرے ساتھ فقط سید وزارت حسین تھے اور وہ بھی ایک جناب تشریف رکھتے تھے۔مظہر الحق صاحب نے اپنے جواب میں انتہائی زور اسی مسئلے پر دیا کہ جماعت احمدیہ کے عقائد مخلاف اسلام اور مستلزم یہ کفر ہیں۔یہ ان کا بنیادی مطالبہ تھا اور لانہم تھا کہ وہ اس پر زور دیتے۔لیکن ان کی ایک دلیل پر مجھے کچھ حیرت ہوئی جس سے ان کی غرض صرف جوں کی طبیعت میں بانی سلسلہ احمدیہ کے خلاف مخالفت اور غصے کا جذبہ پیدا کرنا تھی۔کسی قدر یہ تصنع ہوش پر سے انہوں نے فرمایا کہ ہم مسلمان ہو حضرت علی علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا انتہائی احترام کرتے ہیں ایسے شخص کو اور اس کے متبعین کو مسلمان کیسے گردان سکتے ہیں جو حضرت علی کی شان