تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 144 of 736

تحدیث نعمت — Page 144

تم ۱۴ اختلاف ہوا تو ان ایا میں میں نے دو شخصوں کے متعلق نام لیکر دعا کی کہ اللہ العالی ان میں سے کم سے کم ایک کو سبعیت کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالٰی نے میری دعا قبول فرمائی اور چودھری نصر اللہ خانصاب نے بیعت کر لی۔خاک ، کا اندانہہ سے کہ شاہ کے آسنہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے والد صاب کو ارشاد فرمایا کہ اب خدمت دین کیلئے اپنے آپ کو فارغ کر لیں۔چنانچہ آپ نے طے کر لیا کہ اپریل شد تک پریکٹس کا کاروبار بند کر کے قادیان حاضر ہو جائیں گے۔انڈین کیسیز کے کام میں تو فضل اللہ مجھے کوئی وقت پیش نہ آئی۔پچودھری صاحب کے ڈلہوزی واپس تشریف لے جانے کے بعد ان کی ہدایات کے مطابق کام ہوتا رہ ہا۔ہفتہ دس دن بعد اردھ کیمیز کا ایک شمارہ آیا جس میں چارہ فصلے ایسے تھے جو ابھی انڈین کیسیز میں نہیں چھپے تھے۔سابق دستور تو کہی تھا کہ یہ چاروں فیصلے سیڈ نوٹ سمیت انڈین کمیسیز میں نقل کر لئے جاتے۔لیکن میں نے ان چارے فیصلہ جات کے ہیڈ نوٹ خود تیار کئے۔جب یہ رسالہ میرے پیڈ نوٹوں کے ساتھ چودھری صاحب کی خدمت میں ڈلہوزی پہنچا تو انہوں نے میرے تجو یہ کردہ سیڈ نوٹوں کو پسند فرمایا اور ہدایت بھیجی کہ انڈین کین میں میرے تیار کردہ لیٹ شائع کئے جائیں۔ساتھ ہی لکھا کہ اب ظفر اللہ خاں کا کام نظر ثانی کیلئے میرے پاس بھیجنے کی ضرورت نہیں۔سو محض اللہ تعالٰی کے فضل اور ذرہ نوازہ ہی سے ایک سال کا عرصہ جس میں مجھے نوٹ تیار کرنے کی مہارت حاصل کرنی تھی دو ہفتے میں ختم ہو گیا۔فالحمد للہ۔اس کے بعد میرا یہ طریق سٹاک میں سر فصیلہ تو جہ سے پڑھتا۔اگر یہ پورٹر کے تجویہ کردہ ہیڈ نوٹ میں یا ایسے قانونی رسائل کے کسی ہیڈ نوٹ میں جسے نقل کیا جاسکتا میں اصلاح کی گنجائش دیکھتا تو بلا تامل اصلاح کر دنیا یا خود دنیا سیڈ نوٹ بخونید کمرتا۔انہی ایام میں آخری پہر دن پڑھتے وقت کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے سیڈ نوٹ میں مجھے کوئی سقم نظر آیا اور میں نے اس میں مناسب اصلاح بخونیمہ کی۔یہ میٹڈ نوٹ ہمارے کلکتہ کے ریو پر کا تیار کردہ تھا۔کلکتہ ہائی کورٹ کے متعلق ادارتی ذمہ داری مسٹر پار تھا ساتھی کی تھی۔مٹر ہار تھاسارہ تھی نے اسے بلانہ میم پاس کر دیا تھا۔جب لالہ کشن چند صاحب ہیڈ پر دن ریڈ میری تجویز کردہ ترمیم مرا نہ تھا سا بھی کے پاس لیکہ گئے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ ترسیم تو منا س ہے لیکن اگر پیڈ نوٹ ترمیم کیاگیا تو ہمارے یہ پور ٹر خفا ہو جائیں گے۔وہ میرے کمرے میں تشریف لائے گرمی کا موسم تھا۔میں نے پوچھا کچھ پینے کو منگواؤں ؟ مسکرائے اور جلدی سے کہا نہیں تکلف کی ضرورت نہیں۔میں نے کہا تکلف تو آپ کر رہے ہیں کچھ پسند ہو تو فرما دیجئے۔اس پر کچھ جھینپ کر تو فرما دیجئے کہا اچھا تو پھر لیمونیڈ سہی کون دیکھتا ہے ؟ میں نے تھونیڈ منگوایا اور انہوں نے کچھ تامل سے پیالیا