تحدیث نعمت — Page 145
۱۴۵ مختصر گفتگو کا یہ تھا کہ بیا ان کے نام سے ظاہر ہے مسٹ یارہ تھاسا نہ تھی آئینگ مادران کے یہ معنوں میں اعلیٰ پائے کے بہ یمن تھے اور ذات پات کے لحاظ سے کھانے پینے اور دیگر معاشرتی معاملات میں ان پر شدید پابندیاں تھیں۔جب شد درع شروع میں لاہور تشریف لائے تھے تو اپنے دستورہ کے مطابق ہوتا بھی نہیں پہنتے تھے کیونکہ ان کے عقائد کے مطابق چھڑہ ناپاک ہونے کی وجہ سے جسم کو نہیں چھونا چاہیے۔لیکن پنجاب کی سردی سے محبوبہ ہو کہ آخر چہل کا استعمال شروع کر دریا تھا۔سیڈ نوٹ میں ترمیم کے متعلق مسٹر بارہ تھا سا ریختی نے مسکراتے ہوئے فرمایا تمہاری جو نیہ کردہ ترمیم بہت مناسب ہے اور مجھے اس سے اتفاق ہے لیکن کلکتے کے رپورٹر بہت نازک طبع ہیں میں ان کے بیڈ نوٹ میں کبھی کبھی ترمیم کیا کرتا تھا۔انہوں نے چودھری صاحب کی خدمت میں احتجاج کیا جس پر چودھری صاحب نے یہ ہدایت دی کہ کلکتہ کے رپورٹروں کے سپیڈ یونٹ میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔تب سے میں نے ان کے ہیڈ نوٹ کی نظر ثانی ترک کر دی ہوئی ہے۔میں نے کہا میرے خیال میں تو یہ ایسا سکم ہے کہ اس کی اصلاح ضرور ہونی چاہیے۔لہذا یہ معاملہ ہمیں چودھری صاحب کی خدمت میں ڈلہوزی بھیج دینا چاہئے۔مسٹر یا ر تھا سار بھی اس پر بھی رضامند نظر نہ آئے تو میں نے کہا اگر آپ اس تہ نیم کے ساتھ متفق ہو جائیں تو اس کی ذمہ داری میں لے لوں گا اس پر بخوشی رضامند ہو گئے کار ساز ما به فکیره کار ما | شروع اکتوبر میں جب چودھری شہاب الدین صاحب لاہور واپس تشدید لائے تو دو ایک دن کے بعد مجھ سے فرمایا تم کچھ مول نظر آتے ہو۔میں نے والد صاحب کے متعلق ذکر کیا کہ وہ اب اپنا کام بند کرنے والے ہیں اور اس مرحلے پر مجھے ان کا ناتھ بٹانے کیلئے ان کے پاس ہونا چاہئے تھا۔چودھری صاحب نے ذرا سوچ کر فرمایا تم نے یہاں کا کام تو خوب سمجھ لیا ہے اور تمہاری رفتار بھی تیز ہے۔تم ہر ہفتے میں تین دن سو موالہ، منگل اور بدھ سیالکوٹ پہلے جایا کرو وہاں یہ انتظام کر لینا کہ زیادہ مقدمات کی تارہ بیخیں ان تین دنوں میں مری ہو جایا کریں باقی چار دن یہاں ٹھہر کہ یہاں کا کام کر لیا کرو۔مجھے ان کے اس ہمدردانہ مشورے اور اجازت سے بہت اطمینان ہوا اور میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے محض اپنے فضل سے چودھری صاحب کے دل میں یہ تحریک کردی اور بغیر میرے سوال کرنے کے یہ مشکل جو مجھے نا قابل حل معلوم ہوتی تھی ایک لحظے میں حل ہو گئی۔سچودھری صاحب کے متعلق بھی میرا دل شکر سے لبریز ہو گیا کہ انہیں میری پریشانی کا پورا احساس ہوا اور انہوں نے فوراً اس کا مناسب مل بخونید کہ دیا۔اگر چودھری صاحب میرے مشاہرے میں نصف کی تخفیف بھی کر دیتے تو میں بخوشی قبول کر لیا اور کام میں بھی کسی پہلو سے غفلت نہ ہونے دیتا۔لیکن انہوں نے کوئی ایسا نہ کر نہ کیا ہیں۔۔