تحدیث نعمت — Page 100
پہاڑی چوٹیوں پر جا بجا پر انے امراء کے قلعہ نما محل کھڑے ہیں۔ان میں سب سے خوشنما اور نا یہ کمی بیشیت بجا رکھنے والا سٹونزن فیلہ ہے۔انگریز شاعر بائرن کی مشہور نظم چائلڈ ہیرلڈ میں رائین کے اس حصے کا بہت پر لطف بیان ہے۔واپسی کے دوران میں میں نے اس تنظیم کا وہ حصہ نکال کر سامنے رکھ لیا اور ہر مقام کو حبس کا نظم میں ذکر تھا شناخت کرتا گیا۔اس طرح سیر کا لطف اور دلچسپی دوبالا ہو گئے۔پایا ہائیڈل برگ | مینز سے بہانہ میں مہم گیا۔ہم نے شہر کی سیر بھی کی اور اسے بہت خوشنما یا یا مہم اور یہاں سے سٹیم سے چلنے والی ٹریم پر ہم ہائیڈل برگ بھی گئے تجر بہا سے اس دریائی کے سفر کالری چیس ترین مقام ثابت ہوا۔یہ شہر دریائے نیکر کے دونوں طرف واقعہ ہے۔یہ دریا چند میل نیچے مکین ہم کے قریب جاکر برائین میں شامل ہو جاتا ہے۔ہائیڈل برگ سے ادھر اس دریا کی وادی بھی بہت خوشنما ہے۔بعد میں بھی مجھے اس دادی کی سیر کا دو تین یا یہ اتفاق ہوا ہے اور ہر بار وہ سیر پرتکلف رہی ہے۔تائیڈل برگ کی یو نیورسٹی یون کی یونیورسٹی سے زیادہ شہرت رکھتی ہے۔بون کی جنگی روایات غالباً ٹائیڈل برگ سے زیادہ روشن ہیں۔لیکن ہائیڈل برگ کی علمی شہرت کون سے بہت زیادہ ہے۔ہائیڈل برگ کا طرہ امتیانہ ایک پاکستانی اور خصوصاً ایک سیالکوٹ کے کا رہنے والے کے لئے یہ ہے کہ اسے علامہ سر محمد اقبال کی درسگاہ ہونے کا فخر حاصل ہے۔۔ہائیڈل برگ آج بھی اپنی یو نیورسٹی کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔اور جرمنی کی صنعتی ترقی سے اس حد تک متاثر نہیں ہو ا کسی حد تک جرمنی کے دوسرے بڑے شہر ہوئے نہیں۔پہاڑہ کی چوٹی پر قصر ہائیڈل برگ اور دامن میں دریائے نیکہ ابھی تک زائرین کیلئے باعث کشش ہیں۔مین ہیم سے جہاز نے واپس دریا کے اترا کی طرف سفر شروع کر دیا۔اور واپسی کے سفرمیں ہماری دلچسپی میں کوئی کمی نہ آئی ملکہ نہ یادتی ہوتی گئی۔ہمارا واپسی کا سفر کولوں پر ختم نہ ہوا ہم اس جہاز میں رائٹر ڈیم تک آئے۔کولون سے نیچے دریا بہت ہموار علاقے میں سے گذرتا ہے۔ڈونرل ڈارن شہر کا پھیلاؤ اب تو بہت بڑھ گیا ہے۔اس وقت جرمنی کے صنعتی شہروں میں ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔دوسط شہر مں پھولوں کی خوشنما کیا ریاں تھیں یہاں سے ایلیبر فیلڈ تک ایک بہتی گاڑی چلتی تھی۔جس کا ایک پہیہ چھت کے اوپر تھا جس سے گاڑی ٹکی ہوئی چلی جاتی تھی۔اس زمانہ میں یہ گاڑی ایک عجوبہ سمجھی جاتی تھی۔