تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 99 of 736

تحدیث نعمت — Page 99

49 گرد وره بریسلرز اور مضافات کی سیر کر چکے کر چکے تو سمنے بیلجین ریلونیہ کا ایک ہفتے کا ٹکٹ خرید لیا اور آر ن کاٹکٹ خرید لیا اور آسٹنڈ پروگس ) گھنیٹ کی سیر کو گئے۔ہم صبح پر سر سے پروانہ ہو جاتے اور شام کو واپس آجاتے۔اس کے بعد تم پر سلز سے براسته نامور ایک نہایت خوشنا مقام دینیانٹ پر دو دن کیلئے جا ٹھہرے۔یہ جگہ آرڈینز کے علاقے میں ہے۔ان دنوں یہ ایک چھوٹا سا قصبہ میوند دریا کے دائیں کنا سے پر تھا۔اب اچھا خاصا شہر ہے اور دریا کے دونوں طرف پھیل گیا ہے۔اور اسکی تمام دلکشی جاتی رہی ہے۔البتہ امور سے اوپر ڈینیان" تک دریا کا منتظراب بھی دلفری ہے۔ڈینائٹ سے پھر نامور اور پیچ وغیرہ ہوتے ہوئے تم کولون پہنچے۔سجد منی | کولون دریائے RHINE کے بائیں کنارے پر واقعہ ہے۔اور شام کے وقت دریا کا منظر بہت دلفریب ہوتا ہے۔ہم دریا کے کنا ہے جارہے تھے اور بجلی کی روشنی میں دریا کے منظر کا لطف اٹھا رہے تھے کہ مسٹر یوسف امام یک تخت رک گئے اور کہا بھائی کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا کہیں خاص تو نہیں بیس دریا کی سیری مقصود ہے۔کہنے لگے سیر تو ہو گئی۔بس دیکھ لیا۔پانی ہے۔بہہ رہا ہے۔اب الیس چلیں ! اسی طرح جب ہم دو تین دن بعد وائمہ بیڈن میں شہر سے باہر سر کر رہے تھے تو رک کر پوچھا بھائی کہاں جاتے ہو ؟ کہا سیر کو جارہے ہیں۔کہنے لگے سیر تو ہوگئی۔بس درخت ہیں اور سبزہ ہے اب واپس چلیں۔دراصل انہیں پیدل چلنے کی عادت نہیں تھی۔تھوڑی دور چل کر تھک جاتے تھے۔اور پریشان ہونے لگتے تھے۔کولوں سے ہم ریل پر ہوں گئے جو اس زمانے میں اپنی یو نیورسٹی کی دیجہ سے مشہور تھا۔شام کو واپس کو لون پہلے آئے۔پھر وہاں سے دوخانی جہانہ پر لائین دریا کے اوپر کی طرف روانہ ہوئے۔یہ سیر کاحصہ بہت پر لطف رہا۔جہانہ کے کین آرام دہ تھے۔کھانا بھی عمدہ تھا۔گویا بہانہ ایک رواں ہوٹل تھا۔جہاں جہاں جہاز ٹھہر نائم اتر کر سیر کو چلے جاتے۔کہیں زیادہ وقت ملتا کہیں کم۔کون سے گزرنے کے بعد یہ شہر کو بلنز آیا۔یہاں دریائے موزیل آکر بائین میں شامل ہو جاتا ہے۔عین مقام اتصال پر منتصر نیم کامجسمہ نصب تھا۔موزیل کی وادی بہت خوشنما اور قابل دید ہے۔بعد میں دو تین بار مجھے اس وادی میں سے گذرنے کا اتفاق ہوا اور ہر بار یہ سفر بہت پر لطف رہا۔یورپ کے سب دریاؤں کے کناروں پر عموما متواتر آبادی چلی جاتی ہے۔دریائے لائین بھر لیورپ کی تاریخی اور بہت بارونی آبی شاہراہ ہے اسکی توسط پہ بھی جہاندوں اور رشتوں کا آمد ورفت کا سلسلہ نہا ہے۔اور دونوں کناروں پر بھی سڑکوں اور بریلوں پر ہر وقت کثرت سے آمدورفت رہتی ہے۔کو بلنز اور مینز کے درمیان دریا کے کنارے پہاڑ ہی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔اور منتظر اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے۔