تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 657 of 736

تحدیث نعمت — Page 657

کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ان کی آخری تیاری کی اطلاع مجھے جیسے کراچی کے پو لی اور یں شیخ مجانا مد صاحب اور چودھری یرا احداح کے مارا ایک بار پرسی کیلئے سیال حاضر و بیماری کی تم تفصیل سے سنائی اور رخصت کرتے وقت میرا ہاتھ انے ونوں ہاتھوں میںکچھ دیر سے ہے اور فرما میرے لئے دعاکرنا۔اس بار میں میں نے مار دعا کی توی پاتایا لیکن للہ تعالی کی طرف سے فیصد صادر ہوا کہ وہ اپنے مولا کے حضور حاضر ہو جائیں الہ الالا مضرت فرمائے اور اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے۔آمین۔نیروبی بہت خوشنما شہر ہے اور آب و ہوا انہایت معتدل ہے ویسیوں اور پردیسیوں سب کو موافقی آتی ہے۔انگانیکا نیروی سے برا ارادہ الاسلا سے ہوتے ہوے ہو جانے کا تاوانا ناک کے مربی علاقے کا نظام مرکز ہے۔وہاں احمد بریشن بھی قائم ہے اور سجد محمدیہ کی بہت دیدہ زیب عمارت ہے۔اس مسجد کے بنانے کا فیصلہ زمانہ جنگ می کیا گیا تھا۔ن دنوں کچھ اطالوی جنگی قیدی شورای نظر نہ تھے۔ان میںسے بعض فن تعمر کے ساتھ مسجد کی عمر کیلئے ان کی خدمات میرزائی ور انہوں نے شوق اور اخلاص سے ایک خوبصورت عمار غریب کے مجوزہ اندازے کے اندر نمی کردی۔شیخ عمری عیدی ان دونوں مغربی علاقے کے کمتر یک حدی دوست شیخ عمر عبیدی مرسوم تھے جب شیخ عمری عبیدی صاحب کو میرے دارالسلام نے کے ارادے کاعلم ہوا توانہوںنے مجھے لکھ تم مٹور میں ہارے پاس ٹھہرنے کیلئے درون مزور نکالو۔اس وقت کی اساس سیری در گاما کا کرایا ہوا تھا جس می نیروبی اور کہا کے درمیان صرف تین دن میسر سکتے تھے شیخ عمری عبیدی کے اخلاص اور تقوی کی وجہ سے میرے دل میں ان کا درجہ احترام تھا۔اور میری شدید خواہش تھی کہ کسی صور انکی ملاقات کا موقع میتر آسکے میتر آس کے بیشیخ عمری بعیدی نہایت مخلص نوجوان تھے۔وہ تنزانیہ کے صدر مملکت مٹر کو لیس ناثر یرے کے تم مکتب تھے۔اور اسی زمانے سے ان کا آپس میں گہرا دوستانہ تھا۔سلسلہ احمدیہ میں شامل ہونے کے بعد دینی تعلیم کمی کیلئے کہ وہ آئے اور سال ڈیڑھ سال جامعہ احمدی تحصیل عل میں گزارا اور زندگی دس دن کیلئے وقف کردی۔دارالسلام ایسا جانے پر احمد میش باروی میں کار ہائش اختیار کی تعمیر میں عبادات اور خدمت دین کا اعلی معیارقائم کیا عربی اورانگریزی می خاصی مہارت حاصل کر چکے تھے۔دارالسلام کے حلقوں میں ان کا بہت احترام تھا۔پاکستان سے واپسی کے ایک سال کے اندر ہی درہ دار اسلام کےپہلے افریقی مداد بلدی منتخب ہوئے اور پلے سال کی میعاد گزرنے پر بلامقابلہ راستے سال کیلئے پھر مر متخب ہوئے۔لیکن اس اونچنے مہنگ پر فائز ہونے کے باوجود ان معیار زندگی کیسادگی میں کئی فرق نہ آنے دی ملک کی آزادی پر جب پارلیمنٹ کاسیل انتخاب ہوا لوہا مقابلہ پالیمنٹ کے رکن منتخب ہوئےاور تو اعر صاحب مغربی علاقے کے کمر کے منصب پر ائمہ ہوئے میں ابھی نیروبی ہی میں تھاکہ کا اپنا مکروہ ایک کانفرنس میںشرکت کیلئے دارالسلام سے ہیں اور کچھ دن میں ٹھہر کے لن میرے لئے بورا جنکی ضرورت نہری۔انہوں نے بھی بتایا کہ صدر ملکت نے آپ کے قیام کا انتظام اپنے پاس سٹیٹ ہاؤس میں فرمایا ہے اور دارالسلام ے کمپالہ جانے کا انتظام حکومت کی طرف سے کر دیا جائیگا۔