تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 658 of 736

تحدیث نعمت — Page 658

صد رہ نائری کے ہاں قیام دار السلام میں تین دن بڑی دلچسپی میں گذرے۔دو تین تقریریں بھی ہو میں سب سے دلچسپ صور نا ٹریرے کی محبت رہی اور ہے دل نوشن بشیخ عمر عبیدی کی رفاقت دار اسلام کی آب و ہوا گرم اور مرطوب ہے۔لیکن سٹیٹ باڈس پر انا ترین گو رنمنٹ ہاؤس ہے جس کی تعمیر نہایت وسیع پیمانے پر ہوئی تھی۔کرکے فراح اور ہوا دار میں دیواریں سوڑی اور چھت بلند - کروں کو ٹھنڈا رکھنے کا انتظام بھی ہے ہرطرح کا آرام میر آیا مصدر " نائمر میرے ایک بیدار مغز اور قابل سیاستدان ہیں سخت سے سخت بات نزم سے نرم الفاظی ادا کرنیکا مکہ ر کھتے ہیں۔جن اداروں کے دیکھنے کا اتفاق ہوا انسے میں نے اندازہ کیاکہ تانگانیکا این مشکلات کا حل دانشمندی اور محرم سے تلاش کر رہا ہے۔صدر نائی میرے نے میاں نواندی اور تواضع کا ہر سلوسے خیال رکھا۔ان کی اپنی طبیعت بالکل سادہ ہے کان ے کسی قسم کا تکلف یا نفع نہیں کرتے۔فرمایا جب ہم نے سٹیٹ ہاؤس میں رہائش اختیار کی پیے ہیں مجھے اورمیری یوی کو اتنے وسیع رہائشی کمروں سے ملانا اور کھانے کے مرد کا رستہ عمل کرنا دشوار ہوتا تھا، آخریم نے فیصد یا کہ ہم اپنے ذاتی استعمال کیلئے مر د کے کھیں گے جن میں اپنی ضروریات اور عادات کے موافق سادہ سامان یکھیں گے۔اب وہ دو کرے گویا ہمارا گھرمیں اور باقی سٹیٹ ہاؤس مہمان خانہ ہے جس میں ہم اپنے آپ کو بھی مان سمجھتے ہیں کھا " یخ عمر عبیدی نے ایک در رایا یا انہیں علم ہےمیں نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی ہوئی ہے ریلو سے دار اسلام واپس آنے پرمیں پلے میٹر تب ہوا پھر پارلمنٹ کارکن منتخب ولا علاقائی کمتر ہوں۔مجھے اس بت کی نظر ہے که میری یہ سرگرمیاں میرے وقت کی روح کے خلاف تو نہیں۔تمہاری اس کے متعلق کیا رائے ہے ؟ میں دعاء کے ذریعے ہدایت تو طلب کر رہا ہوں۔چند دن ہوئے میں نے ایک خواب بھی دیکھا۔جس کا شاید اس بات سے بھی کچھ تعلق ہو۔لیکن وہ خواب بیان کرنے سے پہلے میں تمہاری رائے معلوم کرنا چاہتا ہوں۔میں نے عرض کیا کہ اس معاملے میں میری رائے تو کوئی وقعت نہیں رکھتی اگر آپ کو اس سلسے میں کوئی پریشانی ہے تو آپ حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ کی خدمت میں عرض کریں اور تو ارشد حضور کا ہو اس پر عمل پیرا ہوں۔لیکن چونکہ آپ نے مجھ سے مشورہ طلب کی ہے اسلئے اپنا ذوقی تاثر گذارش کر دیتا ہوں جو یہ ہے کہ آپ اس معالم میں کمال اخلاص اور دیانت کے ساتھ اپنے ضمیر کو ولی اگر آپ کا حقیقی مقصد خدمت دین ہے اور یہ مواقع واللہ تعالے نے اپنے فضل سے مہیا فرمائے ہیں ان کے فرائض کو کمل دیانتداری کے ساتھ سرانجام دیتے ہوئے پ پھر بی ہر موقعہ کو خدمت دین کا ذریعہ بناتے ہیں تو آپ کی پریشانی کی کوئی وجہ نہیں لیکن اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ ہیواوے اور یہ نصب اپنی ذات میں آپ کیئے پریش بن ہے میں تو پھر کو بیک کر ہونی چاہئے۔اس پرانہوں نے اپنا خواب سنایا جس میں انہوں نے دیکھا کہ صدر نائر کیسے ایک سڑک سے گذر ہے میں بیشیخ عمر عبیدی صاحب بڑک کے کنارے پر اور لوگوں کے درمیان کھڑے ہیں۔صدر انکی طرف متوجہ ہوئے اور والفاظ میں کچھ ہیں فرمایالیکن ایک میل نکوعطا کی میں خواب کی تعبیرتو یا یا اس سے ایک کا خواب مرے تغیر ہوجائے یا کیا کیا اور رات تک کے نیویارک این کا