تحدیث نعمت — Page 627
ینی سے پروگرام ہو گیا لیکن ستمر اسلام میں دوری عالی جنگ سے پروگرام بی منو کرنا پڑا۔قیام پاکستان کے بعداقوام متحدہ کی املی کے سالانہ اجلاسوں کے دوران یں سعودی عرب کے وزیر خارجہ عالیہ امر فصل سال جلال ملک الاشرار فیصل) کے ساتھ نیاز مندی کے روابط پدا ہونے پر میں نے ان سے حج کیلئے مکہ معظمہ حاضر ہونے کے متعلق مشورہ کیا۔انہوں امامانم و تو سب انتظام کردیں گے لیکن حج کے ایام میں موم استد گرم ہوتا ہے کہ باوجود ہرقسم کی سہولت کے ہم وگوں کیلئے بھی اس کی برداشت مشکل ہو جاتی ہے ہمارا مشور ہے کہ چندسال انتظار کرو جب تک کے ایام میں موم کسی قدر اعتدال پر آجائے بشار میں عدالت کا اعلاس شروع فروری کی جائے اوائل اپریل میں متحد ہونا تھا میں نے اراد ا کہ اس ایسے فائدہ اٹا میں مرے کا پروگرام بناؤ میں ہے ا س ت م ال عالی اپنے دور سے بی کی توفیق بھی عطا فرمائے اور اس فرض کی ادائیگی کیلئے مناسب سہولت بھی میسر فرمادے۔ان ایام میں خواجہ شہاب الدین صاحب جسے میں پاکستانی سفرتھے۔میں نے ان کی خدمت میں پنے ارادے کی اطلاع کر دیا دونوں کراچی سے کوئی پرواز راہ راست باد نہیں جاتی تھی۔کراچی سے مدرسے جانے کے لئے ویران یا بروت س ہو کر جانا پڑتا تھا مجھے مشورہ دیاگیا کہ برودت سے جانے میں سہولت رہے گی۔چنانچہ میں ار مادر شاہ کو جدہ پہنچ گیا۔خواجہ شہاب الدین صاحب کمال شفقت سے مطالہ پر شریف ائے ہوئے تھے۔مصر مون کہیں ان کے ہاں پاکستانی سفارتخانے میں قیام کریں۔خواجہ صاحب نے ایک انہوں نے میرے ے مارنے کا ذکر الہ المک سود کی ندی کی انا لن ایک دم اما ایمان ہوگا، خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ مہمان توآپ کاہی ہوگا اور سب نظام بھی آپ ہی کی طر سے ہوگا لیکن آپ کی اجازت سے اگر اس کی رہائش ہمارے ہاں ہو تو ہم اس کے طبی پر سبز اور عادات سے واقف ہونے کے باعث اس کے غور و نوش کا نظام اس کی ضرورت کے مطابق کر سکیں گے۔اس پر علامہ الملک نے اس شرط پر اجازت دیدی کہ باقی سب انتظام سفر و غیرہ کا اور مکہ معظمہ میں قیام کا سعودی محکم ضیافت کی طرف سے ہو گا۔خواجہ صاحب کے ناں مجھے سر سہولت میری ان کی مہمان نوازی مشہور ہے اورمیں کراچی میںبھی اسے متمتع ہوتا رہا تھا۔اس میں بی بی کیفیت تھی۔ان کی بیگم صاحب محترم کی طرف سے بھی میں نہایت تواضع کا مورد رہا۔نجز اہم اللہ خیراً مکه که معظم میانه شدا پر حاضری کی سعادت کی روانہ ہوا سفارتخانہ کے پرنٹ | ۱۸ م عوام میرے ہمراہ تھے۔اس سفر میں دل میں جذبات کا جو ہیجان تھا اس کا بیان الفاظ میں مشکل ہے۔البتہ ظاہری مناسک کا خلاصہ بیان ہو سکتا ہے۔ہر دل اپنی کیفیات اور اپنے طرف کے مطابق باقی کا قیاس کر سکتا ہے۔جدہ سے نکلتے ہی تلبیہ کا ورد شروع ہوتا ہے۔حرم کی حدود سے تھوڑے فاصلے پرپہلے حدیبیہ کا مقام آتا ہے۔جہاں رسول اللہصلی الہ علیہ وسلم نے قیام فرما تھا۔اور جمال قریش کے نمائندے سہیل کے ساتھ آخری شرائط صلح طے پا ک معاہدہ کھاگیا تھا۔میاں اب ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس میں میں نے دو نفل ادا کئے۔حدود حرم کے نشان کے طور پر سٹرک کے دونوں طرف ستون ایستادہ میں یہاں سے شروع ہوکہ