تحدیث نعمت — Page 626
۶۲۶ ہیگ میں مسجد احمدیہ | بیگ میں مسجد احمدیہ کا ہونا میرے لئے بڑی روحانی تسکین کا موجب تھا یہ سجد لفضل اللندن کی احمدیہ مسجد کی طرح جماعت احمدیہ کی خواتین کی مالی قربانیوں کی مالی با گا ہے۔اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے اور عمات کے مکمل ہو جانے پر اس کے افتتح کی سعادت بھی محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی ذرہ نوازی سے مجھے نصیب ہوئی میرے قیام کے عرصہ میں حافظ قدرت اللہ صاحب امام در مولوی محمد ایوب صاحب سوماٹر دی نائب امام تھے۔ان دونوں مخلصین کا ایک نمونہ میرے لئے مشعل راہ تھا۔محترم عزیزہ والٹرایک محترمہ عزیزہ والٹر ولندیزی نومسلم جن کا ذکر پہلے آپ کا ہے نہایت پارسا مخلص اور ولندیزی نومسلم خاتون صالح خاتون نہیں مان را می دوز انظار کرے اور مغر کی نمازادا کرنے کے بعد ہ ہم منٹ کا سفر بس میں کر کے مسجد میں حاضر ہوکر خواتین کی معیت میں تاریک کے نفل ادا کریں مستجاب الدعوا اور صاحبہ رویا و کشوف تھیں۔خوشنویسی کا شوق تھاقرآن کریم کی آیات خوبصورت قطعات میں سبز زمین پر سفید الفاظ کی شکل میں تیار کرتی لیکن اللہ تعالی کا نام سنہری حروف میں دکھا ئیں۔سنگ کی مسجد میں بہت سے قطعات انکے تیار کردہ آویزاں ہیں مسجد کی دیواروں پر بھی ان کے ہاتھ سے احکام قرآن خوبصورت نقش کئے ہوئے ہیں۔میرے مکان کیلئے بھی اقات تیار کے اور مریم کی یہ طور یدیہ کے ہیں میں نےار کیا کہ بی بی آپ کی دم میں کوئی ہدیہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں تو فرمایا دشت جاؤ تو کچھ نمونے خوشنویسی کے میرے لئے لیتے آنا۔چنانچہ مں نے ان کی خواہش کے مطابق چند نمونے ان کی خدمت میں پیش کر دیئے۔میرے دوبارہ عدالت میں شامل ہونے کے وقت زندہ تندرست تھیں لیکن طبیعت سے کچھ منعف کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے پر استہ آہستہ جم کی خانہ میں شمولی میں ناغہ ہے لگا۔عمر اسی سال کے قریب ہوچکی تھی یا مکن ہے اس سے زاید تو آخر ، استاد کو محبوب حقیقی کی رحمت کے سایہ تھے رحلت کر گئیں۔ان کے اخلاص، ان کے ایمان کی بشاشت ، عبادات سے شغف ان کے عشق الہی۔ان کی پیشانی کے نور سے بی اندازہ ہوتاہےکہ درگاہ الہی سے انہیں میں دعوت موصول ہوئی ہوگی یا ايتها النفس المطمئنة ارجعی المحاربيك راضية مرضية فادخلی فی عبادی وا دخلی جنتی ہم میں سے جو کوئی بھی انہیں جانتا تھا اس نے انکی رحلت پر ضرور دعاء کی ہوگی۔داخلش کن از کمال فضل در بیت النعیم“ بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کے میں نے بچپن میں سا تھا کہ میرے دادا جان چودھری سکندر خالصاحب مرحوم میں عرصہ میں عمرہ ادا کرنے کی سعادت نے حج کی سعادت حاصل کی تھی۔اس وقت سے میرے دل میں اس فریضیہ کی ادائیگی کا اشتیان تھا۔انگلستان میں تعلیم ختم کرنے کے بعد وطن واپس جاتے ہوئے نو برس میں حج کی سعادت حاصل کرنے کا ارادہ تھا۔ٹکٹ ہوں سالہ میں ہی خرید لئے گئے تھے۔اگست کہ میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوگئی معجس سے یہ پرو گرام در کمبریم ہو گیا شدت کی گرمیوںمیں پھر ارادہ کیا کہ جنوری منگ میں اس فریضے کی ادائیگی کی جائے بہاری