تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 628 of 736

تحدیث نعمت — Page 628

ура مختلف مقامات پر دعا و منتحب ہے۔مکہ معظمہ کی آبادی کے قریب مقام مدعی ہے۔مکہ معظمہ جاتے ہوئے کعبہ شریف کی چھت پہلے پہل اس مقام سے نظر آیا کرتی تھی۔اب درمیان میں مکانات بن جانے کی وجہ سے یہاں سے نظر نہیں آتی شہر مکہ معظمہ کے نظر آنے پر بھی دعاء مستحب ہےاور پھر شہر میں داخل ہوتے وقت بھی۔میرا قیام فندق مصرمیں ہوا۔سامان رکھتے ہی مسجد حمام حاضر ہوئے نان کعبہ کی دیر سے آنکھیں روشن ہوئیں طرف کی سعادت حاصل ہوئی۔طواف کی تکمیل پر نا ملتزم پر کھڑے کر در کعبہ کی ریلیز پر ہاتھ رکھے کمال محبت اور گرانے کی حل می دعاء کی توفیق عام ہوئی احمد التاسی حالت میں سوس ہوا کہ یہ شریف کا دروازہ مل گیا ہے کہ شرف کے اندر داخل نصیب ہوا ہے اس مقام پر کھڑے ہوکر جس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نفل ادا کئے تھے دو نفل ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اور اس کے بعد باقی تینوں جان باری باری رخ کر کے فضل اداکئے اور مولانا روم کے مصرعہ دور درون کعبہ یکم باد نیت کی حقیقت عملاً تجربے میں آئی۔سعودی خاندان نے جہاں میرے سے مکہ معظمہ، حجرے سے مدینہ منورہ ، مکہ منہ سے منی ، مزدلفہ ، عرفات کی انتہ ا سڑکی صرف زید کثیر سے تعمیر کروا کر حجاج کےلئے انگنت مشکلات اور صعوبتوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور حج بیت اللہ اور سرین کی زیارت بے حد آسان کر دی ہے اور منی اور عرفات کے مقامات پر بافراط تازہ میٹھے پانی کے ذخیرے مہیا کر دیئے ہیں وہاں صفا مرزا کے درمیان مقام سعی کومستف کر کے اور حرم کے صحن کو وسعت دیکر اور اس فرش کو ہموار کرکے حجاج بیت اللہ کے لئے بہت سی سہولتوں کا سامن کر دیا ہے۔جزاهم اللاحسن الجزاء في الدنيا والآخرة۔میرے عمر کیلئے حاضر ہونے سے تھوڑاع متقبل کعبہ شریف کی پرانی چھت کے چارفٹ یا ساڑھے چارفٹ نیچے کی چھت ڈالی گئی تھی۔پرانی چھت کے متعلق نداشت پیدا ہوگیا تھاکہ کمزور توری ہے۔جب میں کعبہ شریف کے اندر نوافل سے فارغ ہو تو مجھے تایا گیا کہ جن انجنیر صاحب کی زیر نگرانی کعبہ شرف کے صحن کی توسیع اور جیت کی تعمر کا کام ہورہا ہے وہ اس وقت کعبہ شریف کی دونوں چھپتوں کے درمیان تشریف فرما ہیں اور مجھے شرف ملاقات سے مشرف کرنے پر رضامند ہیں۔چنانچہ میں کعبہ شریف کی اندرونی سیڑھی کے رستے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور چند منٹ میں استقفين العہ بھرنے کا شرف حاصل کیا۔کو شریف سے نکل کر مقام ابراہیم پر فل واکئے۔زمزم کا پانی خوب سیر ہو کہ یا صفا اور مروا کے درمیان سعی کے دوران میں حضرت ابراہیم ، حضرت ہاجرہ ، حضرت اسمعیل علیہم السلامکی کامل فرمانبردار اور انتہائی قربانیوں کی یاد تازہ کیا اور ل میں خشیت اور گانے کی کیفیات کومحسوس کیا۔سعی کی تکمیل کے علیم کے ادرار رحیم اور رکن یمانی کے درمیان نفل اداکئے اور قیام گاہ پر واپس آیا۔ظہرین کے بعد منی، مزدلفہ اور عرفات حاضر ہوئے جبل رحمت پر دعاء کی اور سید ولد آدم افضل السل خاتم النبيين محبوب خدا محمد صلى اله علیہ والہ وسلم پرالی فرمان کے مطابق بہت بہت درود اور سلام بھیجے کی سعادت حاصل کی۔عرفات کی مسجد میں نفل ادا کئے اور مکہ معظمہ کو واپس ہوئے۔بعد مغرب طواف اور نوافل کی سعادت