تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 564 of 736

تحدیث نعمت — Page 564

۵۶۴ کونسل کے پہلے سے رکن تھے۔ان کی طرف سے سوال اٹھایا گیا کہ تین ملک اگر طور نگران نامزد کئے جائیں وہ تینوں کونش کے رکن ہوں گے اور تین غیر گران ملکوں کو بذریعہ انتخاب ونسل کی رکنیت میں شام کیا جائے گا۔گویا سومالیہ کی نگرانی ے سلے میں کونسل کی رکنیت میں چھ اراکین کا اضافہ ہو گا جن میں سے نظم ونسق کا نظام و مر ایک ملک یعنی اٹی کے پرو ہوگا۔اور حقیقی معنوں میں صرف اٹھی ہی نگران ملک ہوگا اور عملا پانی نگران کو ل میں شامل ہو جائیں گے جس کے نتیجے می کونسل کی تشکیل بالکل بدل جائے گی اور نصف نگران اور نصف غیر نگران ممالک کا توازن قائم نہیں رہے گا۔کیونکہ زرگران ملکوں کی تعداد نگران ملکوں کی تعداد سے بہت بڑھ جائے گی۔اقوام متحدہ کے قواعد کے تخت اس وقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔آخریہ طے پایا کہ سومالیہ کا نگران توالی کوی مقرر کیا جائے لیکن دو ممالک اٹلی کی کارگذاری کی نگرانی کریں اور اس کے متعلق ہر سال رپورٹ پیش کیا کریں۔چنانچہ اس کے مطابق قرار داد منظور ہوگئی اور اس پر عمل در آمد شروع ہو گیا۔عرب ممالک بھی اس انتظام پر رضا مند تھے اور سومالی وفد بھی مطمئن تھا۔اٹلی نے اس فرض کو دیانتداری سے ا کیا اور مقرہ میعادکے اندر سومالی نے آزاد ہوکر اندرونی نظم و نس بھی بنا لیا اور اقوام متحدہ کی رکنیت بھی حاصل کرلی۔سوڈان کی آزادی سارہ کے نومبر می امریکہ جاتے ہوئے مجھے ایک رات نو یوم ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔امریکہ سے مجھے انگلستان جانا پڑا اور انگلستان سے واپسی کے سفر کے دوران میں مار پر کسی اور میں مجھے پھر درون خرطوم ٹھرنا پڑا۔اس مختصر وقت میں جو کچھ مجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا اس کا مجھ پربہت اچھا اثر ہوا۔اور میرے دل میں سوڈان کے سادہ دیندار اور مخلص لوگوں کی عزت ، احترام اور ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا۔واپسی کے سفر میں مجھے السید عبد الرحمن المہدی اور السید مرغنی صاحبان کی ملاقات کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔جب اقوام متحدہ میں سوڈان کی آزادی کا مسلہ زیر غور آیا تو پاکستانکے وزیر خارجہ کی حیثیت سے بھی اور اپنے ذاتی رجحان کی وجہ سے بھی میں نے میں گہری دلچی لی مینی لحاظ سے سوڈان کی حیثیت دیگر نو آبادیات سے کچھ مختلف تھی۔عملا تو سوڈان کا تمام نظم ونسق برطانیہ کے ہاتھ میں تھالیکن تاریخی اور آئینی لحاظ سے سوڈان کے علاقے پر برطانیہ اور مصر و مشترکہ طور پر اختیارات حاصل تھے۔سوڈان کی آزادی کے مسئلے کا ایک پہلویہ بھی تھا کہ آزادی کے بعد سوڈان اور مصر کے در میان رابطے کی نوعیت کیا ہوگی؟ اپنی ایام میں مصراور بر طانیہ کے درمیان سوئیز سے بر طانوی افواج کی واپسی کے مسئلے پر بھی گفتگو جاری تھی۔یہ دونوں مسائل ابھی ابتدائی مراحل میں تھے کہ مصرعی انقلاب کے نتیجے میں شاہ فاروق تخت سے علیحدہ کر دیے گئے اور مصر می جمہوری حکومت قائم ہوگئی۔190ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس پھر پیرس میں ہوا۔مصر کی وندی حکومت کے وزیر خار یہ کے ساتھ میرے مراسم مدور تجہ دوستانہ تھے۔اسمبلی کے اجلاس کے دوران میں ہما میری گفتگو سوئی سے برطانوی افواج