تحدیث نعمت — Page 565
۵۶۵ کی واپسی کے مسئلے پر برطانیہ کے وزیر خاریہ مٹر ایڈن سے بھی ہوتی رہی۔اس مسئلے میں پاکستان مصر کا پورے طور پر موئید تھا اور ٹرائین کوبھی مصری مطالبے کے ساتھ ایک حدتک بعد دی تھی گو انہیں ابھی یہ اطمینان نہیں تھا کہ" وزیر اعظم برطانیہ مٹر چھ میل اس مطالبے کو پورے طور پر قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔سوڈان کے دور قد بھی پرس میں موجود تھے اور دونوں کے ساتھ میری گفتگو جاری تھی۔میری کوشش تھی کہ (1) سوڈان کے سب نمائندے برطانیہ سے پوری آزادی حاصل کرنے پر متفق ہو جائیں (۲) وہ اس امرکی اہمیت کو پوری طرح سمجھ لٹکی سوڈان اور مصر کے درمیان تعاونی تعلقات کا قیام اور استحکام دونوں کی بہبودی کے لئے لازم ہے۔(۳ ) ان تعلقات کی عملی شکل کا فیصلہ وہ براہ راست مصر کی حکومت کے ساتھ کریں۔گفتگو کے دوران میں سوڈان کے دونود کے اراکین بعض آئینی مسائل کی وضاحت بھی کراتے رہے۔مثلا مجھ سے پوچھا گیا کہ اگر سوڈان مصر کے ساتھ تخت و تاج کا اتحاد قبول کرے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ تو نہ ہوگا کہ سو ان مصر کا محکوم ہو گیا ہے۔میں نے انہیں مثالیں دیکر یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ اگر آئین میں صاف طور پر درج ہو جائے کہ سوڈان کے آزاد ہونے پر شاہ مصری شاہ سوڈان بھی ہوں گے لیکن شاہ سوڈان کی حیثیت میں وہ اپنی سوڈانی وزارت کے مشورے پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے تو اس خدشے کا ازالہ ہو جائے گا۔اور اگر سوڈان اس آئینی پابندی کو اور مضبوط کرنا چاہے تو آزادی حاصل ہونے پر وہاقوام متحدہ کارکن بھی بن جائے۔اور معر اور سوڈان کے درمیان جو آئینی معاہدہ ہو اسے اقوام متحدہ میں داخل کر دیا جائے۔ساتھ ہی میں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ مصر کے وزیر خارجہ سے بھی مل کر اپنے شبہات اور خدشات کے متعلق اطمینان کر لیں۔وزیر خارجہ مرنے متعد بار مجھ سے اپنے اطمینان کا اظہار کیا کہ ہماری معی کے نتیجے میں فضا بہت حد تک مانی ہوئی ہے اور اب سوڈان اور مصر کے درمیان جلد سمجھوتا ہو جائے گا۔مصری انقلاب کے بعد ان دونوں مسائل کے متعلق گفت و شنید انقلابی کونسل نے اپنے ہاتھوں لے لی۔میں مصر سے بر طانوی افواج کی واپسی کے سلسلے میں دو تین بار قاہرہ اور لندن گیا قاہرہ میں پاکستانی سفارت خانہ تو تھا لیکن ان ایام میں سفیر کوئی نہیں تھا۔سید طیب حسین صاحب بعده مدیر اول سفارت بنانے کے سربراہ تھے۔جب بھی مجھے قاہرہ جانے کا اتفاق ہوا انقلابی کونسل کے اراکین کی طرف سے سید طیب حسین صاحب پر پورے اعتماد کا اظہار ہوتا تا اورانکی مساعی کے متعلق ممنونیت اور تشکر کے جنوبا تمام اراکین کونسل کی طرف سے جو گفتگو میں شریک ہوتے ظاہر ہوتے رہے یہاں تک کہ ہر بارمجھے مشورہ دیا جاتا رہا کہ سید طیب حسین صاحب کو مصر میں پاکستانی سفیر مقر کیہ دیا جائے۔برطانوی نمائندوں کے ساتھ اس مسئلے پر گفت وشنید کا سلسلہ لمبا ہوتا گیا۔کبھی گفت وشنید کا سلسلہ بند بھی ہو جاتا۔جب بھی یہ صورت پیدا