تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 563 of 736

تحدیث نعمت — Page 563

۵۶۳ نجانے کیلئے ہمیں خرچ بھی کرنا پڑے گا اور بہت سے تجربہ کارافراد کی ادا کیا اس کام کیلئے کیا کرنا ہوں گی میں سونالیا کے حالات کا علم اور تجربہ رکھنے والے افسر خاصی تعداد میں میسر ہیں تو سومالی زبان بھی جانتے ہیں۔ادھر سومالیا کے تعلیم یافتہ طبقے میں سے اکثر اطالوی زبان سے بھی واقف ہیں اس طرح کمی بر دیگر ملک کے مقابلے میں بہت سی سورتیں حاصل ہیں۔لیبیا کے معامے میں ہم اپنی نیک نیتی کا ثبوت دے چکے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کریم اس معاملے میں ہماری خواہش کو ہمدردی کی نظر سے دیکھو گے۔ظفر اللہ خاں :۔میں توصرف آپ کی خواہش اپنی حکمت تک پہنچا سکتا ہوں۔میر اندازہ ہے کہ اس معاملےمیں پاکستان کا وہی موقف ہو گا جو عرب مملک کا ہو گا وہ سومالیہ کے پڑوسی ہیں اور سومالیا کی آبادی کوعرب ممالک کے ساتھ بہت ربط ہے۔مناسب ہو گا اگر آپ عرب نمائندوں کے ساتھ بھی بات چیت کریں۔کونٹ سفور نرا :۔میں نے ان میں سے بعض کے ساتھ بات کی ہے مثلا لبنان کے نمائندے ڈاکٹر چار س ملک نے مدردانہ غورہ کا وعدہ کیا ہے اگریم عرب نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرو تو بہت مکن ہے کہ کوئی صورت سمجھوتے کی پیدا ہو جائے۔میں نے ڈاکٹر پاریس ملک سے بات کی انہوں نے مجھے اور رب نماندوں کو اس محلے پر غور کرنے کیئے معیاری یا اور اب میں لایا۔بعد رو بہ فیصلہ ہوا سمجھنے کی صورت ہو تی ہے سوالیہ کا نظم و نسق و نگرانی کے دوران میں مٹی کے سپرد ہو جائے لیکن مٹی کے ساتھ دو نگران مل اور مل کر دیے جائیں واویلی کے قائم کردہ نظام کی گرانی کریں۔مجھے بات ہوئی کہ تم اٹلی کو اس تونہ پر رضامند کرنے کیلئے کونٹ سفورزا کے ساتھ بات چیت کرد۔کونٹ سفرنا نے پہلے کچھ لیت و لعل کی لیکن جب انہیں یقین ہوگیا کہ ہم کسی اور تجویز پر رضامند نہیں ہوں گے تو انہوں نے فرمایا میں نے رفقائے وزارت کے ساتھ مشورہ کئے بغیر اس معاملے میں فیصلہ نہیں کر سکتا۔میں کل دم واپس جا رہا ہوں۔وہاں پہنچنے کے دو تین دن کے اندر ہم کچھ فیصلہ کر سکیں گے۔ہمارا سرکاری نمائندہ نہیں ہمارے فیصلے کی اطلاع کر دے گا۔میرا انبار جان اس تجویز کے حق میں ہے اور میں اپنے رفقاء کو قائل کرنے کی کوشش کروں گا۔تین چار دن کے اندر اطالوی نمائندے نے مجھے اطلاع دی کہ کون سفورزا کی طرف سے عرب ملک کی تجونیہ کی منظوری کی اطلاع آگئی ہے۔لیکن جب کم نے اس تجویز کے مطابق قرار داد کا مسودہ تیار کیا اور ساتھ ہی اراکین اسمبلی کی تائید حاصل کرنے کے لئے سعی شروع کی تو ایک اور مشکل پیش آئی اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ کو نسل کی تشکیل اس طرح پر ہے کہ جو مالک کسی علاقے کے نگران ہیں وہ سب اس کونسل کے رکن ہیں۔ان کی تعداد کے برابر تعداد غی نگران ملکوں میں سے املی کونسل کی رکنیت کے لئے انتخاب کرتی ہے۔گویا کو نسل کے اراکین میں نصف تعداد نگران ملکوں کی ہے اور نصف غیر نگر ان ملکوں کی۔ہماری تجو نہ تھی کہ ومالیا کی نگرانی میں ملوں کے سپرد ہو جن میں سےایک عینی اٹلی والا کے نظم ونسن کا مدار ہو۔جو گران مالک