تحدیث نعمت — Page 556
۵۵۶ ہونے کی صورت پیدا ہو جائے گی اور اگر یا بلد آزاد ہو جائے توشمال مغربی افریقہ کے تینوں عرب ممالک یعنی تونس الجنہ ائم اور مراکش کی آزادی کا رستہ کھل جائے گا۔اس نے میری کم می موزه قرارداد کا ر کیا جانا از بس ضروری ھی میری طاقتوں نے بیویوں کی نگرانی مٹی کے پرد کرنے کی بیوی سے لاطینی امریکی ریاستوں کی تائید حاصل کر لی تھی اس وقت اقوام متحدہ کی رکنیت ساٹھ سے کم تھی اقوام متحد کے میثاق کی دفعہ کی روسے قرارداد کی منظوری کے ئے دو تہائی آرا در کار تھیں۔بحث کے دوران ہمیں اندازہ ہواکہ پندرہ اراکین تو یقین قرارداد کے خلاف رائے دی کے یکن اگر دو چار اراکین رائے دینے سے اجتناب بھی کرتے اور آرا شماری میں ۵۴ اراکین مخالف یا موافق رائے دیتے تو قرار داد کی منظوری کے لئے ۳۶ آراء در کار ہوتی اور نامنظوری کے لئے ۱۹۔اپنی طرف سے پوری کوشش کرنے کے بعد بھی ہمیں قرار داد کے خلاف صرف ۱۵ آراء ملنے کا یقین تھا۔عرب ریاستیں تو قرار داد کے خلاف تھیں لیکن اس قویت صرف چھ عرب ریاستیں اقوام متحدہ کی رکن تھیں۔ان میں سے مصرکے وزیر خارجہ خش با پاشا بھی پوری مجدد تبعد کر رہے تھے اور ہم دونوں آپس میں مشورے کرتے رہتے تھے۔بحث کا آخری دن آپہنچا اور قرارداد کے خلاف ۱۵ آرام سے زیادہ کا امکان نظر نہیں آتا تھا۔میری طبیعت میں سخت اضطراب تھا اسی اضطراب کی حالت میں میں نے نمانہ ظہر من بنات عجز دانک رسے رب العالمین کی درسگاہ میں زیر کی کہ الہ العالمین ہم گنہگار نافرمان پر تقصیر می لیکن آخر تیرے بندے اور تیرے حبیب کے نام لیوا ہی تو ہم پر رحم کی نظر فرمان فلسطین کے معاملے میں ہمیں زنک ہوئی اب لیا کا معاملہ فیصلے کو پہنچنے والا ہے۔اس علاقے میں تیرے سیکسی بندرے بڑے مظالم کا نشانہ بنے رہے ہیں۔تو اپنے فضل ریم سے ہمیں دو رستہ کی جس پر ملکہ تم میرے مظلوم بندوں کی رہائی اور مخلص کی تقریر کر سکیں تیسری رکعت کے پہلے سجدے میں جاتے ہوئے دفعہ اللہ تعالی نے اپنے کمال فضل و رحم سے ایک ترکیب کی تقسیم فرماد الحمد ل ہو رہی ہیں ن نماز ختم کی ایفون کی گھنی بھی اقوام متحد میں سر کے منتقل نمائندے محمود فوزی صاحب نے فرمایا میرے وزیر خارجہ دریافت کرتے ہیں تم کب تک آنے کا ارادہ رکھتے ہو؟ وہ چاہتے ہیں کہ عبد آجاؤ تو سہ پہر کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے کچھ مزید غور کر لیں۔میں وزیر خارجہ مصر کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔انہوں نے پو چھا کچھ مزید غور کیا ہے اور کوئی جو نہ دین میں آئی ہے؟ میں نے کہا ناں آئی ہے یا یوں کہئے زمین میں ڈالی گئی ہے۔اب تک ہم اس کوشش من میں رہے ہیں کہ یہاں تک ہو سکے پوری قرار داد کے خلاف آراء حاصل کی جائیں۔اس کوشش کے نتیجے میں تو میں رفت لا مخالف آرام حاصل ہوسکی ہیں جو قرار داد کے رد کرنے کے لئے کافی نہیں ہمیں کم سے کم تین چار اور مخالف آرام در کار ہیں۔اور ان کے حاصل ہونے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی۔اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ جو مالک برطانیہ افرانس کی خار یا فرانس کی خوشنودی کی خاطر برطانیہ کو ICYRENAICA CYRENAIC اور فرانس کو فیضان کی نگرانی سپر کرنے کے موئید میں دن میں سے تین چار کو اس بات پر آمادہ کریں کردہ اس قرار داد میں برطانوی اور فرانسیسی نگرانی والی شقوں کی تائید میں