تحدیث نعمت — Page 555
جانے کی تائید میں ضرور رائے دیں گے۔اٹلی نے اپنے تھیں کہ اقتدار کے زمانے میں لیبیا کی عرب آبادی کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک روارکھا تھا اللہ کی جنگ میں اٹلی کے لئے ترکی افواج کو یا میں پسپا کر دیا تو کچھ دشوار ثابت نہ ہوا لیکن اس کے بعد ملک کی عرب آبادی کو یہ اقتدار لانے میں اٹلی کو بہت مشکل کا سامنا ہوا۔اٹلی کی طرف سے اس مہم کو سہ کرنے کی ذمہ داری مارشل بڈو گلیو پر ڈالی گئی۔انہوں نے اپنی ایام امن " PACIFICATION کی پالیسی 12 کی سرانجام دہی میں بنایت در مسجد وحشت اور بہ بہ بیت کے طریق اختیار کئے۔مثلاً ایسے شیوخ یا قائدین تو کسی قیمت پر اطالوی اقتدار کے سامنے سرقم کرنے پر رضامندنہ ہوتے انہیں برا ہوائی جہاز میں کی ہزارٹ کی بلندی پہلے جا کر تا ہے نیچے گرادیا جاتا یا کوئی ریگستانی آبادی اطالوی اقتدار کا جو آبادی کے گرد گھیر ڈال دیا اور آبادی کے پانی کے ذخیروں میں بھاری مقدار میں زہر ڈال دیا جاتا۔محصور آبادی میں سے جو باہر نکلنے کی کوشش کرتے وہ اطالوی توپ یا بندوق کا نشانہ بنتے اور جو باہرنکلنے کی کوشش کرتے وہ پیاس یا زیر گور پانی پینے سے بڑھتے ہوئے جان دیتے۔مارشل بڈو گلیوں کے قیام امن کے منصوبے کی تفاصیل دوران بحث میں اسمبلی کے روبینہ بیان کی گئیں۔املی کے حمایتیوں کی طرف سے اس کے جواب میں میں کہا جاتا رہا کسب مسولینی اور اس کے گردہ کی کر تو میں تھیں۔اب جبکہ خود اٹلی والوں نے مسولینی اس کی پارٹی اور اسکی پالیسی کو ختم کرکے ان حرام سے بیزاری کا ثبوت مہیا کر دیاہے توائی پر پورا اعقاد کیا جاسکتاہے کہ وہ اپنے فرائض کو تہذیب اور دیانتداری کے ساتھ انجام دیگا اور یہ طانیہ اور فرانس کے دوش بدوش پیسا کو آزادی کیلئے تیار کرنے کی سرگرم کوشش کرے گا۔لیکن ان کا یہ کہتا نہ تو لیا کے وفد کو مطمئن کر سکانہ ہماری نسلی کا موجب ہوا۔ہمیں مجونہ قرار دارد بعض اور وجوہ سے بھی نا قابل قبول معلوم ہوتی تھی۔ہمیں ایسا کوکسی ایک طاقت یا ایک سے زائد طاقتوں کی نگرانی میں نیا منظور نہ تھا۔ہم چاہتے تھے کہ یا جلد سے جلد آزاد ہو اسلئے دس سالوں کی میعاد بھی بھی پسند نہ تھی۔مزید براں ملک کا تین حصوں میں تقسیم کیا جان میں انگور تھا۔ہم جانتے تھے کہ اگر قراردادکے دریا کے پر بھی اسے نہ ہو سکیں گے مشرقی حصے کی عملداری انگریزی ہوگی ، وسطی حصے کی اطالوی اور مغربی حصے کی فرانسیسی یہ اختلاف خود اتحاد اور آزادی کے رستے میں روک اور سہمانہ ہو جائے گا۔بحث کے دوران اسمبلی میں تہاری طرف سے ان سب امور کی وضاحت پورے طور پر کر دی گئی۔ان دستورات کے علاوہ ایک اور امر میرے لئے بہت پریشانی کا موجب تھا۔میں سمجھتا تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے فضل سے اٹلی کو شکست دیکر اور تحاری کو ان کے اپنے ہاتھوں سے سہلی کے فیصلے کا پابند بن کر لیا کی آزادی کا امان فرما دیا ہے۔اب مغربی طاقتوں کی یہ قرار داد لیپا کی آزادی کے رستے میں حائل ہوگئی ہے۔مغربی طاقتوں نے توسمجھا ہوگا کہ تو خونی دو کریں گے آملی اس پر مہر تصدیق ثبت کر دے گی۔میرا خیال تھا کہ اگر ہم اس تجوید کور د کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو لیبیا کے جلد نہ کر آندار