تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 475 of 736

تحدیث نعمت — Page 475

ماه مارس نے مجھ سے کہا کہ جب سے مجالس قوانین ساز کا انعقاد عمل میں آیا ہے حکومت کے خلان منافرت پیدا کرنا تو حزب مخال کا فرض منصبی ہوگیا ہے۔ملا صو بات میں اگر مغرب مخالف وزارت کے خلاف منافرت پیا کر کے مجلس کی کثرت و یا انتخاب کے موقعہ پر رائے دہندگان کی کثرت کو وزارت کے خلاف نہ اک دے تو وزارت کی تبدیلی کا کون امکان باقی رہ جاتاہے۔یہ بھی فرمایا کہ اب آئینی نقطہ نگاہ سے وہ وقت آگیا ہے کہ اس جرم کی تازہ تیر کی جائے اور مناسب یہی ہے کہ ہندوستان میں بھی اب اس کی وہی تعبیر ہو تو انگلستان میں کی جاتی رہی ہے۔یعنی اس تجوم کے قائم کرنے کیلئے یہ ثابت کرنا ضروری جوکہ جن الفاظ کو محرم کی بناء بیان کیا جاتا ہے ان سے حکومت کے خلاف محض منافرت ہی پیدا نہ ہوتی ہو بلکہ ان کے نتیجے میں نقص امن کا بھی معقول اندیشہ پیدا ہوتا ہو۔چنانچہ عدالت کے فیصلے میں اس پہلو کی خوب وضاحت کر دی گئی۔سرما رس جب چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تو ARTHRITIS کی تکلیف ی مبتلا تھے اور یہ تکلیف بڑھ رہی تھی لیکن ہندوستان ی تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ دینے میں انہوں نے بہت دلچسپی لیا شروع کر دی تھی۔وہ مرکزی تعلیمی بورڈ کے صدر تھے۔ایک دفعہ قادیان تشریف لائے اور میرے مہمان ہوئے سلسلے کے تعلیمی اداروں کو بڑے شوق سے دیکھا۔جس بات کا انہوں نے گہرا اثر لیادہ یہ ھی کہ جماعت احمدیہ نے نہایت قلیل عرصے میں بغیر ایک پیسہ خرچ کرنے کے قادیان کے ہر بالغ کو نوشت و خواند سے بہرہ ور کر دیا تھا۔قادیان کے سارے بچے تو عرصے سے مدرسہ جانے کے عادی تھے ہی۔ڈاکٹر رضیاء الدین مرحوم نے مجھے تا کہ سرماریں گواٹر نے قادیان سے واپسی کے بعد مرکزی تعلیمی بورڈ کے اجلاس میں جماعت کی اس کامیابی کوبہت سراہا۔اور فرمایا اگر قاریان جیسے دور افتادہ تھے میں رضا کارانہ طور پریہ کامیابی بر کسی باید مصرف کے حاصل کی جاسکتی ہے تو ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔اسی دھن میں سرماریس نے دتی یونیورسٹی کے وائس چاند کے منہ کے فرائض اپنے ذمے لے لئے تھے۔اور عدالت سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی جب تک صحت نے اجازت دی وہ ان فرائٹن کو اعزان ی طور پر لیکن بڑی سرگرمی سے ادا کرتے رہے۔آخر جب ان کا آزار بہت تکلیف دہ ہو گیا تو اچار انگلستان والیس ملے گئے اور ایسٹ پورن میں اب حل ایک فلیٹ میں رہائش اختیار کی میں انگلستان گیا تو انکی مد میں بھی حاضر ہوا چلنے پھرنے سے عاری ہوچکے تھے لیکن پر بھی اور پانی کی فرمائش پر سپریم کوٹ کے قوام کی نظر ثان اور تمیم کےمتعلق رپورٹ تیار کرنے میں مصرف تھے۔نیکی کریر نے مجھے بتایا کہ اب ان کی صحت انہیں متواتہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔یہ ہماری آخری ملاقت تھی۔کچھ عرصہ بعد کی ونات کی حیرت ائع ہوئی۔سمہ ماریں وائر کے عدالت سے علیحدہ ہونے کے بعد مجھے متعدد بار اپنے رفقاء سے فیصلوں میں اختلاف رائے ہوائیاں تک کہ قانونی حلقوں میں میں DISSENTING JUDGE کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔میں یہ نہیں کہ سکتا کہ جب بھی میں نے اختلاف کیا میری رائے لاز مادرست تھی۔اور میرے رفقاء کی رائے صائب نہ تھی۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ میں دہی