تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 476 of 736

تحدیث نعمت — Page 476

موقف اختیار کرتا تھا جو مجھے درست معلوم ہوتا تھا۔واللہ اعلم بالصواب۔یہ اتفاق کی بات ہے کہ یہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میری اختلافی رائے حکومت کے موقف کے خلا ہوا کرتی تھی۔مجھے حکومت کے ساتھ کوئی ضد نہ تھی۔میں ان طبیعت ی اتا اور اپنی تربیت کے لحاظ سے قانون اور ان کا ہمیشہ سخت سے پانی اور امی رہا ہوں اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلے میں مجھے کبھی کس کی رعایت منظور نہیں رہی۔اللہ کے فضل ورحم سے وبصیرت مجھے عطا ہوئی ہے اس کے مطابق جو موقف مجھے مطابق قانون اور قرین انصاف نظر آیا میں نے وہی اختیار کیا۔اس میں کسی موقعہ پر بھی کسی فریق کی رعایت یا مخالفت کا ہرگز کوئی دخل نہیں تھا۔میں نے عدالت کا رکن ہوتے ہی اپنی عدالتی نوٹ بک کے پہلے صفحہ پر اس آیت کریمہ کا خط کشیدہ حصہ اپنے ہاتھ سے درج کر لیا تھا :۔يَاتِهَا الَّذِينَ امنوكُونُوا قَوْمِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرَ مَنكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِ اعِدِ مُواقف هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى زواتَّقُوا الله إن الله بما تعملون )۔میری طبیعیت میں یہ بات تو فضل اللہ راسخ ہے کہ ایک جج کے فیصلوں پر اس کی اپنی پسند یا نا پسند کا قطعا کوئی الہ نہیں ہونا چاہئیے۔فوجداری معاملات میں چونکہ قانونا آخری مرحلے تک بار ثبوت استفانے کے ذمے ہوتا ہے اسلئے جب تک میرا لولا اطمینان نہ ہو جاتا کہ استغاثہ اس بار ثبوت سے ہمہ وجوہ سبکدوش ہو چکا ہے میں الزام کو ثابت شدہ قرار نہ دیتا۔کے سیاسی ہنگاموں کے بعد گور نہ منزل نے ایک آرڈینینس کے ماتحت مہارہ اور صوبجات متحدہ میں بعض مقامات پر سپیشل ٹریبونلز و خصوصی عدالتیں قائم کئے۔مجسٹریٹ ضلع کو اختیار دیا گیاکہ فسادات کے سلسلہ میں بجن مقدمات کو وہ چاہے سپیشل ٹربیونل کو تفویض کر دے۔ایک فوجداری اپیل میں اس آرڈینینس کے جواز کا مسئلہ فیڈرل کورٹ کے سامنے آیا۔سی است کے مرحلے پر چیف جسٹس رخصت پر تھے۔سرسر نینو اس درد اچاری قائمقام چیف جسٹس تھے۔میرے علاوہ تیسرے حج بینہ بائی کورٹ کے ایک انگریز جی تھے جنہیں فیڈرل کورٹ کا عارضی حج مقرر کیاگیا تھا۔وہ خود اس وقت رخصت پر تھے اور بھائی صحت کی خاطر کشمیر گئے ہوئے تھے۔انہیں اپنی رخصت کے دوران میں ہی کشمیر سے دلی آنا پڑا۔حکومت کی طرف سے سر بی ایل متر پیش تھے معاملہ بہت اہمیت اختیا کر گیا تھا کیونکہ میریٹ اضلاع نے کثیر تعداد میں مقدمات سپیشل ٹرمینلز کو تفویض کرنے شروع کر دیئے تھے اور جو مقدمات ان ٹریبیونلز کو تفویض کئے جاتے ان میں ملزمان کا سفر یاب ہو نا قریب قریب ایک قاعدے کی صورت اختیار کر تا جا رہا تھا۔پہلے تین دنوں کی سماعت کے دوران میں قائمقام چیف جسٹس کی اور میری تنقید سے سربی ایل متر نے یہ ادا نہ کیا کہ ہماری رائے آرڈنینس کے جواز کے حق میں نہیں۔چوتھے روز عدالت کے شروع ہوتے ہی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیر نیند کی طرف سے تار موصول ہوا ہے کہ بعض ملزمان کی طر سے جو کسی خاص عدالت سے سزا یاب ہوئے تھے پر لوی کونسل میں اپیل دائر کرنے کی اجازت کی درخواست کی گئی ہے۔وزیہ ہند نے اپنے مشیر قانونی کے محکمے کو ہدایت دی ہے کہ حکومت کی طرف سے اس درخواست کی مخالفت کی جائے کیونکہ اس اپیل میں بھی ملزمان کی طرف سے آرڈنینس کے جواز کا سوال اٹھایا