تحدیث نعمت — Page 460
ساتھ شادی کی تھی جن کا اپنا مکان لامہ نارتھ سٹریٹ میں تھا جو سر جان کیلئے مہابت موزوں ثابت ہوا۔یہ مکان ایوان پارلیمنٹ اور حکومت کے دفاتر کے بہت قریب تھا اور جنگ کے زمانے میں اک روز یہ کیلئے یہ نعمت غیرمترقبہ تھی۔سرجان نے مجھے دوپہرکے کھانے پر مدعو کیا اور میر اتار لیڈی اینڈرسن سے کرایا۔وہ بہت نازک اندام اور ان کی طبع تھیں ان کا مکان بالکل گڑیا کا گر معلوم ہوتا تھا۔سر جان اینڈرسن جیسے بھاری بھر کم حجم رہے انسان کے لئے تو اس مکان کے اندر آزادی سے چلنا پھرنا بھی دشوار تھا لیکن دہ کیس کھا کے کیس نیم کومل دگر گناه کر لیتے تھے سرنڈ لیٹر سٹوارٹ کئی سال مستقل نائب وزیہ سند کے عہدے پر مامور رہنے کے بعد ان دنوں جنگی تدابیر کے محکمے میں ایک ذمہ دار منصب پر فائز تھے۔ماری آپس کی گفتگو کے لئے کوئی خاص پروگرام مقرینہ تھا۔ضرورت کے مطابق اور ہر ایک کی مصروفیات اور سہولت کا لحاظ رکھتے ہوئے گفت و شنید جاری رہتی تھی۔ہفتے میں دور تین بارہ ہم چاروں جمع ہو جاتے تھے۔اس کے علاوہ جن صاحب کے ساتھ ضرورت ہوتی میں علیحدہ علیحدہ بھی بل لیا تھا۔پہلی دو تین ملاقاتوں میں ہی اسبات پر ہمارا اتفاق ہو گیا کہ دار نے کی کونسل میں یہ استشاٹ کمانڈر انچیف باقی سب رنگین ہندوستانی ہوں اور والشرائے کی حیثیت صرف ایک آئینی رئیس ملک کی ہو۔کونسل کے سنٹر نہ ستان ین کو اگر چہ وزیر اعظم کا نام دیا جائے لیکن عمل اس کی حیثیت اور اس کے اختیارات وزیراعظم کے ہوں۔وزیر سند والے رائے کو ہدایت دیدیں کہ انہیں صرف ایسے امور میں دخل اندازی کا اختیار ہے جن کا تعلق براہ راست جنگ کے ساتھ ہو۔اگر بچہ اس تجوید کی تفاصیل پر دونوں جانب سے بہت کچھ نقطہ چینی کی گنجائش تھی۔لیکن ہم چاروں کا اس امر یہ جلد اتفاق ہو یا کسی ایسی تو نہ کوکامیاب کرنے کی ہرممکن کوشش کی جانی چاہئے۔ایک امر جس کا گو مرا ختنہ کوئی ذکر تو ہمارے درمیان نہیں ہوا تھا۔لیکن پولیس پردہ اس تجونیہ کے حق میں محمد تو ایہ تھا کہ امریکی صدر روزویلٹ کی طرف سے برطانوی حکومت پر بہت زور دیا جارہا تھا کہ ہندوستان کو آزاد کرنے کے سلسلے میں جلد کوئی موثر قدم اٹھانا چاہیے۔جب پہلے ذکر کیا جا چکا ہے صدر روزویلٹ نے خود مجھ سے ا ا ا ا ر و ز یر اعظم چه پل پر سندوستان کی آزادی کے متعلق دو دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔آئینی طور پر حکومت ہند و زیر بند کے ذریعے برطانوی پارلیمنٹ کو جواب دہ تھی۔میں تو مطئن تھا کہ اگر امی سمجھوتے کے تھے میں وائر ائے اور وزیر بند کے اختیارات کی حدبندی کر دی جائے تو تجویز قابل عمل ہوسکتی ہے۔لیکن میرے برطانوی رفقا منتظر تھے کہ جنگ کے نازک مرحلے کے دوران میں اب اہم اقدام کرنے کیلئے وزیراعظم وزیر بند در برطانوی مجلس وزراء کوکس طرح رمضان کیا جاسکتا ہے۔حکومت نیند کے وزراء کے طریق انتخاب کا حامد میر برطانوی رفتا ء کیلئے پریشان کن تھا۔ایک کی بیوی پر نوکری کے لئے یا نہ تھے کہ در رام کا انتخاب سمبلی کرے۔یا یہ انتخاب املی کے مشورے کے ساتھ ہوں کیونکہ اول او طریق کو اختیار کرنے کیلئے آئین می ترسیم