تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 459 of 736

تحدیث نعمت — Page 459

د اپنے قلم سے میرے نام اس کے شروع میں رقم فرمایا۔اپنے تین د ونو اپنے دستخط ثبت کر کے بھی دیئے۔ان میں سے ایک یں وہ قصر بیڈ منٹن کے پارک می کنیڈین سپاہیوں کے ساتھ اور کشتی کر دی تھیں۔میں نے کہا ہندستان یں یہ تصویر بڑی دلچسپی کا موجب ہوگی۔فرمایا یہ کوئی ایسی انے کی بات تو نہیں میں توڑے شوق سے ان کے ساتھ انہیںمیں شامل ہوئی تھی۔میں نے عرض کیاکیاآپ مکہ وکٹوریہ یا مکہ الیگزینڈرا کا تصور اس شغل میں کرسکتی ہیں۔فرمایا ہے کی رفتارہ کا لحاظ بھی تو رکھنا ہوتا ہے۔جب میں نے اجاز چا کی تو با اصرار مجھے میرے کمرے تک پہنچانے ہی کا تھ آئیں۔شام کے کھانے پر ڈیوک اور ڈ سپیس آن بوفرٹ تشریف لے آئے۔ڈھیں بات چیت میں بہت پچپی دیتی رہیں۔میں نے لارڈ کلاڈ سے دریافت کر لیا تھا کہ کھانے کے بعد مکہ کب تک ملاقاتی کمرے میں تربیت فرما رہتی ہیں۔انہوں نے بتایا نوبجے ریڈیو پر خرس نشہ ہوتی ہیں۔خرس ختم ہونے کے اندانہ پانچ منٹ بعد لکہ تشریف لے جاتی ہیں۔خبریں ختم ہونے کے بعد میں نے خود کوئی نیا موضوع نہ چھیڑا لیکن ملکہ نے سلسلہ گفتگو پونے دس بجے تک جاری رکھا۔رخصت ہونے پر فرمایا تمہارا ارادہ ناشتے کے بعد لندن واپس جانے کا ہے میں عمر رسیدہ ہوں اپنے کمرے میں ہی ناشتہ کر لیتی ہوں میں ممنون ہوں کہ تم نے یہاں آنے کی زحمت گوار کی تمہاے آنے سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔میں نے مناسب الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔ہندوستان کو آزادی دیئے جانے میں نے شاید کے دوران میں وائسرائے کی خدمت میں یہ تجو یہ پیش کے سلسلہ میں میری ایک تجویہ کی تھی کہ جنگی سرگرمیوں کیلئے ہندوستانی سیاسی حلقوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے کوئی ایک اقدام کیا جانا چاہیئے جس سے انہیں اطمینان ہو جائے کہ جنگ کے کامیابی کے ساتھ م ہونے پر برطانیہ ہندوستان کو آزادی دینے کیلئے تیار ہوگا۔اس لئے مجھ سے کہ چکے تھے کہ جنگ کے دوران یں یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ برطانی حکومتی پارلیمنٹ کی آئینی ترمیم کی طرف توجہ دے سکے اس لئے می نے پنی تجویز کو اسی حدتک محدود رکھا تھا کہ آئینی ترمیم کے بغیر باہمی سمجھوتے کے ذریعے حکومت ہند کی تشکیل میں اور وائسرائے ہند اور وزیر سند کے اختیارات میں مناسب ترمیم کر دی جائے۔اس تجویز پر مشورے کیلئے مجھے ای مرگ باران ایدین اورسارا کا سارا پای مرگ جوانانے کی کان میں عراقی ہ کے تھے ان دنوں اب وزیر جن تھے اور بلدی مرور بیت وزیر جن کے معنی ہونے پر ان کے جانشین ہو گئے۔سر جان اینڈرسن بنگال کے گور مندرہ چکے تھے۔ان دونوں جنگ سے متعلق سائنس اور ٹیکنالوجی کے اموران کے سپر تھے۔ان کی حیثیت وزیر کی تھی اور وہ کا بینہ کے رکن تھے۔بعد میں وہ لارڈ ویور نے ہوئے۔ان کی پہلی بیوی ان کے گورنہ بنگال ہونے سے پہلے فو ہو چکی تھیں۔کچھ عرصہ قبل انہوں نے وزارت خارجہ کے ایک سنی افت کی جدہ کے