تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 461 of 736

تحدیث نعمت — Page 461

لازم آتی۔دوسته به طانوی مجلس وزراء اور خصوصاً وزیر اعظم مسٹر معمہ چل ، اور روزہ یہ سند (مسٹرا بیری) اس طریق کو منظور کرنے پر کبھی رضامند نہ ہوتے۔مجھے شروع سے ہی اس مشکل کی اہمیت کا احساس تھا اسلئے میں اس پر مصر نہیں تھا۔آخر می نے سر جیمز گرگ سے کہا کہ ہم کسی منتقل نظام حکومت کا فیصلہ تو کر نہیں رہے۔ہمیں تو ایک عار منی اور عبوری انتظام کی ضرورت ہے جو دوران جنگ میں کام دے سکے اور تو برطانوی حکومت کی طرف سے طوعاً اختیار کیا جائے۔میری اپنی حیثیت کسی کے نمائیندہ ہونے کی نہیں۔منصب کے لحاظ سے بھی میں بج ہوں۔سیاست میں میرا کوئی دخل نہیں۔میں نے ایک ہندوستانی شہری کی حیثیت میں جیسے اپنے ملک کی آزادی مطلوب ہے اور تجبر سمجھتا ہے کہ یہ آزادی جنگ میں اتحادیوں کی فتح سے ہی حاصل ہوسکتی ہے انا مشورہ پیش کیا ہے۔آپ اور میں چاند سال کا عرصہ حکومت ہندمیں بطور بی کام کرچکے ہیں۔ہمیں ایک سرے پر اعتاد ہے۔اگر ہم کسی ایسی تویہ پر اتفاق کر سکیں جو تین چار سال تک کام دے جائے تو مکن ہے اسکے نتیجے میں آئیندہ کی بہت سی مشکلات کا حل آسان ہو جائے انتخاب وزراء کے متعلق کوئی آئینی صورت تو اس وقت قابل پذیرائی نظر نہیں آتی صرف ایک صورت باقی رہ جاتی ہے۔کہ وزراء کا انتخاب اس عبوری عرصے کیلئے شخصی طور پر کہ لیا جائے۔سر جیمز اصولا اس بات پر رضامند ہو گئے۔باقی دونوں اصحاب نے بھی اسے قبول کر لیا۔اس مرحلے پر مں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ جس تجویز کے خاکے پر کہیں اتفاق ہے اس کی منظوری کی کس قدر امید کی جاسکتی ہے۔شروع میں ہی مجھ سے کہا گیا تھا کہ ہماری گفتگو کے ماحصل سے سر جیمز گرگ وزیر اعظم کو مطلع کرتے رہیں گے اور سرفنڈ لیٹر سٹورٹ وزیر سند کو نہاتے رہیں گے۔اور دونوں اصحاب دونوں وزراء کے ردعمل کا اندازہ کرتے رہیں گے چنانچہ دونوں اصحاب نےبتایا کہ وزیر اعظم اوروہ پر بند کو تجویز کے ساتھ اصولا اتفاق ہے۔یہ امر مرے لے بہت اطمینان کاموجب ہوا کیونکہ مجھے وزیراعظم صاحب کی طرف سے کچھ خدشہ تھا، انہوں نے مشترکہ پارلیمنٹری کیٹی کے رو پر سہندوستان کو نو آبادیات کا درجہ دیئے جانے کی بھی سخت مخالفت کی بھی اگر چہ یہ نورس سال پہلے کی بات تھی لیکن وزیر اعظم کا عہد سنبھالنے کے بعد بھی انہوں نے کوئی ای اقدام نہیں کیا تھا جس سے اندازہ کیا جاسکتاکہ وہ ہندوستان کا حق آزادی تنظیم کرنے پہ آمادہ ہیں۔مجھے ان تجویز کا سب سے میدانا پہلویہ نظر آتاتھا کہ اس کی منظوری عملا ہندوستان کا حق آزادی تسلیم کئے جانے کے مترادن بھی میٹرو پل کو اس تجویز پر رضامند کرنے میں سر میز گرگ کا بہت کچھ دخل تھا۔برسوں پہلے جب سر چرہ کی وزیر خزانہ تھے انہوں نے سر جیز کو ان پرائیویٹ سیکرٹری مقر کیا تھا۔اور انہیں ان پر بہت اعتماد ہو گیا تھا۔چنانچہ اس اعتماد کانتیجہ تھا کہ وزیراعظم ہونے کے بعد سر میز گرگ کو انہوں نے نائب وزیر جنگ اور پھر وزیر جنگ کی علیحدگی پر انہیں وہ یہ جنگ مقرر کیا۔اسی دوران میں میں نے سہ فنڈ لیر سٹورٹ سے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کن ہے وائسرائے ہند لارڈ نلتھگرا