تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 439 of 736

تحدیث نعمت — Page 439

۳۹ پہاڑے اترتے وقت میں کرسی میں ہوتا جس کے لیے بانسوں کو چا چینی کا سہارا دیتے ہوتے۔پہاڑی ست رنگ تھا اور اس میں قدم قدم پر ہو تھے ہر موڑ پہ یہ کیفیت ہوتی کہ میرےسامنے کے دونوں کہا موڑ کاٹ کر پہاڑی کے دوستی کنارے پر پہنچاتے اور کیلیے کہا بھی موڑ پرپہنچے نہ ہوتے اور کسی درمیان میں نکلی ہوتی۔نیچے کر کھڑ وتی میجر ندیم احمد صاحب آگے آگے اپنی ہلکی سے ملکی در دی میں پیدل جا رہے ہوتے۔ان کے گلے کے گرد تولیہ لیٹا ہوتا جو بار بار یہ پوچھنے کے کام آتا۔پہاڑ سے اتر کر جب ہم آبادی کے قریب پہنچے تو تعفن اور بدبو سے دماغ پھٹنے لگتا۔خداخداکر کے کیچڑ اور غلاظت سے اٹے ہوئے رستوں ، گلیوں اور بازاروں سے گذر کر دریا کے کنارے پہنچتے۔یہاں سے کرسی والپس نیکے چلی جاتی اور میجر صاحب اور میں دریا پار جانیوالی دخانی کشتی میں سوار ہو جاتے تو مسافروں سے ھچا کھچ بھری ہوتی میں میں اکثرکے بدن کا اوپر کا حصہ یہ منہ اور پینے سے تر ہوتا۔سوائے چند مسافروں کے ہوشہ یع یں سوار ہو چکے ہوتے ایمان کھڑے کھڑے دریا پار کرتے دریا کے دنوں کناروں پرکشتیوں کا ہجوم ہوتا جن میں کیر خداد چینیوں کی بود و باش ہوتی گشتیوں میں رہنے والے تما افراد حوائج ضروری سے فراغت کیلئے دریاہی کو استعمال کرتے۔اسی دریا کا پانی بنے اور کھانا پکانے کے کام آتا شہر کیطرف کا کنارہ خاصا ا نچاتھا۔بازار تک پڑھنے کیلئے کرائے کی کرسی میسر آسکتی تھی لیکن ہم یہ چڑھائی سیڑھیوں پرسے پیدل ہی چڑھتے بازار تک پہنچتے پہنچے پسینہ بانی ہو جاتا۔یہاں ماری کا منتظر موتی اس میں بیٹھ کر سفارت خانے کے نواح میں ایک کھلی جگہ تک پہنچ جاتے۔یہاں سے ایک تنگ گلی میں سے ہو کر سفارت خانے میں پہنچ جاتے یہ آخری سافت کوئی دو تین صدگی کی تھی لیکن بارش کے وقت میگی دارد بن جاتی اور اس میں سے ہو کر گذر تا بہت احتیاط کا طالب ہوتا۔کینگ کنگ میں مرا لباس ملکی بنیان، ململ کا کلی تینوں ا کرتہ ، شلوار ، جرابیں، بوٹ اور تہ کی ٹوہی ہوتا۔ہم سمی تقریبوں میں شمولیت کے وقت شیروانی نہیں لیا۔چنگ کنگ پہنچے کے چند دن بعد ور پھر رخصت ہونے سے چند دن پہلے جنرل جہانگ کانی شیک اور میڈم نے مجھے شام کے کھانے پر مدعو کیا۔جنرل چیانگ کائی شیک انگریزی بہت کم جانتے تھے۔میرا اندازہ ہے کہ متبادہ ظاہر کرتے تھے اس سے زیادہ سمجھ لیے تھے لیکن پولنے سے پرہیز کرتے تھے۔جب میڈم قرب ہو تی وی مترجم موتی۔میڈم خود ویزلی کالج (امریکہ ) کی گریجویٹ تھیں اور مذہباً عیسائی میتھوڈسٹ فرقے کی تھ وابستہ تھیں۔نہایت شستہ طبع اور نہایت میں تھیں کھانے پر بیٹھے مجھے فرامی کا مسلم علم سے آی ہے خام بھی ہیں کہ میں کی مسلم کا انتھکھانے کے قرب نہیں گیا تم علا تامل اطمینان سے کھاؤ۔کھانے کے دوران گرم تولئے مر مہمانوں کو ہاتھ اور چرہ پوچھنے کیلئے مسائے میں نے تقابل کے اندازہ میں دریافت کیا یہ امتیانہ مر مردوں کو کیوں بخشا گیا؟ مسکرائیں اور کہا تم شہیر معلوم ہوتے ہوتم خوب جانتے ہو کہ اگرعورتیں چہرہ پونچھ میں توان کے چہروں کی زینت بھی ساتھ ہی پونچھی جائے کھانے کے جلد بعد کیا افسوس ہے تمہیں جلد رخصت کرنے کی مجبوری ہے تم جنوبی کنارے پر رہتے ہو اور FERRY کے بند ہونے