تحدیث نعمت — Page 440
۴۴۰ سے پہلے تمہارے اور یا پانہ ہونا لازم ہے۔دریا پار ہونے کی دشواریوں کی وجہ سے شہر اور جنوبی کنارے کے درمیان رات کے وقت آنکه درنت کا سلسلہ بہت محدود ہوکر رہ جاتا تھا۔دن کے وقت دفتر سے یاکسی اور تقریب سے واپسی پر تو ہم و سی طریق اختیار کرتے تھے جس طریق سے ہم نکلے سے دفتر پہنچتے تھے۔صرف ایک فرق ہوتا تھا۔واپسی پر میجر ماسب دریا یا رہو کر میاٹہ کی چڑھائی پڑھنے کیلئے ایک ٹو کرائے پر لیتے۔میجر صاحب طویل قامت تھے جنگ کنگ کے ٹو پتہ تد تھے۔لیکن تھے مضبوط اور چالاک۔ٹٹوریا کے کنارے پر ہی موجود ہوتے اور سیر صاحب وہیں سے 177 b ٹیٹو کی پیٹھ پر ممکن ہو جاتے۔سوار ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ٹیٹو ان کی ٹانگوں میں سے گذر کر کھڑا ہو جاتا وہ اس کی پیٹھ پر جم جاتے۔جونہی ٹوان کا وزن اپنی پیٹھ پر سوس کرناتیز قدمی سے روانہ ہو جاتا سنے ہیں میر کی سیڑھی تھی جو بازار تک چڑ تھی۔ٹو اس سیڑھی پہ پھرتی سے پڑھ جاتا۔آبادی کے حصے سے نکل کر میمون با فراخ پگڈنڈی کے رستے پہاڑ پر پڑھتا اور بنگلے تک پہنچتا۔کرسی رائے اسی تنگ رستے سے پڑھتے جس سے صبح کے وقت انتہائی ہوتی اور جو نا صلہ کے لحاظ سے نزدیک پڑتا۔میجر صاحب اور میں ایک ہی وقت بنگلے پر پہنچ جاتے۔لیکن رات " کے وقت یہ رستہ غیر محفوظ تھا۔پہاڑ پراندھیرے میں پاؤں پھیلنے کا خطرہ بھی تھا اور ہرنوں کا اندیشہ بھی۔ضرورت پڑنے پر مشعلوں سے مدد فکر یہ سنت طے ہو سکتا تھا لیکن بہت اختیاط کی ضرورت تھی اور زیادہ رات گئے تو مہر صورت اس رستے کو اختیار کرنا غیر دانشمندی کا فعل ہوتا۔ایسے اوقات میں ہم یہ انتظام کرتے کہ ہماری اپنی کار دن کے وقت موٹر FERRY پر جنوبی کنارے کی طرف آجاتی اور ہو FERRY ٹنگ کینگ سے جنوبی کنارے کی سڑک تک پہنچنے کا ذریعہ موتی ہم اس پر اپنی کا تہ تک پہنچے جاتے۔پھر کار میں نگلے کے عقب اور بنگلے سے کوئی چار پانچ سوفٹ نیچے آدھ میل کے فاصلے تک پہنچا دتی جہاں سے ہم پیدل مشعلوں کی مد سے نکلے تک پہنچ جاے سڑک پر ہمارے کہا مشعلیں لئے ہمارے انتظار میں ہوتے۔لیکن بارش کے وقت بہ طریق بھی اختیار نہ کیا جاسکت جب ہماری کار منوی کنارے پر ہوتی تو چنگ کنگ میں ہمیں سوار کا انتظام کرنا پڑتا۔اور برطانوی سفیر صاحب از را نوازش ہمیں اپن کار ایسے وقتوں میں ہیا فرما دیتے۔شہر کی طرف سے ہم اس FERRY پہ تو پہنچ جاتے لیکن جب دریا میں پانی کم ہوتا تو یہ PERRY دریا کے دس میں دی جاتی اور امارات کا اور کچھ اصلی دریا ی خشک تہتر ملی تہ پر پیدل گزر کر دریا کے دوسرے پاٹ پر پہنچتے جہاں سے کشتی پر سوار ہو کر سڑک کے قریب پار جا گئے۔جب ہمیں پہلی بار یہ سفر کرنا پڑا اور کشتی ان کو دینے کیلئے ہمارے پاس پیسے نہیں تھے۔ایک دو چینی میرا مسافروں نے بنتے بنتے اشاروں میں ہم سے کہا کہ نہ کرو اور ہماری طرف سے ملاح کو کچھ دید یا سڑک کے پاس کشتی جہاں کتا ہے پر جاکہ لگی وہاں سے سڑک تک پہنچنے کیلئے پتھروں پر سے پڑھنا تھا۔رات اندھیری تھی اور مجھے پھیلنے کا خوف تھا لیکن دوسرے مسافروں کی مدد سے یہ مرحلہ بھی بخوبی نہیں تو محمد للہ خیرت طے پا گیا۔ایسے "