تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 416 of 736

تحدیث نعمت — Page 416

واكم ? رفتار تھی اور بہت سے مقامات پر ٹھہری۔اندانہ ساڑھے چھ بجے ہم سو تیمپٹن سے روانہ ہوئے ہوں گے ساڑھے دس بجے وائٹر لو پہنچے۔یہاں اسٹیشن کے اندر کچھ روشنی تھی۔انور نے میری طرف دیکھا اور کہا سامان ؟ میں نے کہا انجن کے ساتھ کے ڈبے میں چلے جاؤ وہاں سے اپنے دونوں سوٹ کیس اٹھا لاؤ۔وہ مجھے میں مذاق کر رہا ہوں لیکن گئے اور سلمان اٹھائے ہوئے خوشی خوشی واپس آئے۔اتنے میں حکومت کے میزبانی کے صیغے کی طرف سے کرنل کر نیک شاہمیں تلاش کرتے ہوئے پہنچ گئے۔معذرت کرنے لگے کہ تمہیں بہت پریشانی ہوئی ہوگی میں نے انہیں اطمینان دلایا کہ اول تو ہیں کوئی ایسی پریشانی بھی نہیں ہوئی لیکن آخر جنگ کا زمانہ ہے اور ہم تو حیران ہیں کہ مشکلات کے باوجود ہم معہ سامان بخیریت پہنچ گئے ہیں۔دائر لو سے ہم سرکاری موٹر پر گردو نہ ہاؤس پہنچے۔ستے بالکل سنسان تھے اور گھپ اندھیرا تھا۔لندن ایک تاریک شہر خموشاں تھا کسی کھڑکی یا دروازے سے روشنی کی جھلک تک دکھائی نہیں دیتی تھی۔کہیں کہیں کوئی شخص تاریخ کی مددسے راستہ تلاش کرتا ہوا نظر پڑ جاتا تھا۔لیکن جب ہوٹل کے اندر داخل ہوئے تو بالکل مختلف نقشہ تھا۔ہوٹل اندر سے روشنی سے جگ مگ جگ مگ کر رہا تھا اور ہرطرف پھل میں تھی کمرے میں پہنچنے پر کال کر یک شانے کہا نہیں ہیں کھانے کو تو کچھ نہیں ملا ہوگا۔انہوں نے گھنٹی بجائی اور خادم کے آنے پر اسے کھانا ان کو کہا گیارہ بن چکےتھے اورمیرا اندازہ نا کر سین و نادر ہوں میسر آجائیں تو بہت غنیمت ہوگا لیکن پندرہ میں ن کے ان ی پ کا کا مہیا کر دیاگیا۔ان ایام میں عام خوردن اشیاء سے صرف تازہ انڈے آسانی سے نہیں ملتے تھے انڈوں کی کمی بھی صرف شہروں میں تھی دیہات میں انکی بھی کی نہیں تھی۔باقی سب اشیا آسانی سے مل جاتی تھی اگر یہ ان کا منہ ای کی یونین پر نہ کر نے کے عالی تری کی طرف سے کوئی مزید اقدام نہیں ہوا تھا۔کھانا آنے تک کرنل نے کانفرنس کے پروگرام کے متعلق ہمیں ضروری معلوات یت کیں، بتایا کہ مارے استعمال کیلئے سرکاری ڈیلی مور موجود ہے گی اور ایک دن چھوڑ کر وزیراعظم کی طرف سے دوپہر کے کھانے کی دعوت ہے وغیرہ وغیرہ۔یہ اطمینان کر کے کہ ہمارے آرام کا پورا نظام ہے وہ ہم سے رخصت ہوئے کا نفرنس کے ایام میں ان کے محکمے کی طرف سے تمام انتظامات نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام پاتے رہے۔ہمیں ہر طرح سے * ویای آرام ملتا ہ ہم جیسا ہم امن کی حالت میں توقع رکھے تھے اور کسی قسم کی پریشانی کاسامنانہ ہوا۔جزاه الله مسٹر کیسی اور ان کے رفقاء ما ریلیز سے راتوں رات سفر کر کے پیرس پہنچ گئے۔پیرس سے لندن کا سفر صرف رات کے وقت ہوتا تھا۔پہلی رات سفر کا کوئی انتظام نہیں تھا۔وہ رات انہوں نے پیرس میں بسر کی اور دوسری رات لندن کا سفر کیا۔وزیرا عظم کی دعوت کے وقت تک لندن پہنچ گئے۔کنیڈا کے ماندے مسٹر کریر تھے ، نیوزی لینڈ کے نمائندے ان کے وزیر اعظم مسٹر پیر فریزر تھے۔بہت بھلی طبیعت کے آدمی تھے۔میرا ان کے ساتھ بہت جلد دوستانہ ہو گیا۔انہوں نے کہامیں لندن پہنچتے ہی انڈیا اس کا تھا اور وزیر ہند کے ساتھ ملاقات ہوتے ہی یہ سوال کیا تھا کہ ہندوستان