تحدیث نعمت — Page 415
۴۱۵ دن اسکند یہ پہنچے تقیہ سفر می دن بھی چھوٹا تھا اور جنگی پابندی تھی کہ طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب کے بعد سفر نہ کیا جائے۔اسکندریہ سے روانہ ہو کریم کا ر وانت ہے اور رات وہاں بسر کرنا پڑی دوسرے ون کار نو سے پسینز پہنچے۔ہوٹل میں بیٹھے کھاناکھا رہے تھے کہ سرکیسی اپنی سر سے اٹھ کرتے ہیں آئے اور کہا ظفر اللہ میاں کے برطانوی قو نفل نے مجھے ابھی پیغام دیا ہے کہ ان کی حکومت کی ہدایت ہے کہ پہلو یہاں سے لندن تک ہوائی سفرنہ کریں بلکہ دل سے پیرس جائیں اور وہاں سے دریل سے ہی لندن جائیں۔قونصل نے ہمارے لئے آج رات کی پریس جانیوالی ایک پریس پر سونے والے ڈبے میں کرنے محفوظ کر رکھے ہیں۔اگر انور اور تم بھی اسی طریق سے سفر کرنا چا ہوتو وہ کہتے ہیں وہ تمہارے لئے بھی ہیں انتظام کر دیں گے۔میں نے دریافت کیا کہ پروگرام میںاس تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ معلوم ہوا آسٹریلین حکومت نے برطانوی بحری وزارت کو تار دیا تھا کہ دمار ستیز سے لندن تک کے ہوائی سفر کے دوران میں سرکیسی اور ان کے رفقاء کی سو فیصدی حفاظت کی ذمہ داری لیں۔انہوں نے جواب دیا کہ جنگ کا زمانہ ہے ہم تو ایک فیصد بھی کسی کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔اس پر آسٹریلین حکومت نے ہدایت کی ر گھی پارٹی کے سفر کا انتظام ریل کے ذریعے کیا جائے۔میں نے دریافت کیا گیا ہوائی کشتی میں سے سوتی تھی تک جائے گی بتایا گیا کہ پروگرام تو ہی ہے۔میں نے کہا پر ہم تو ہوائی کشتی سے ہی جائیں گے۔دوسری صبح بوائی کشتی وقت پر روانہ ہوئی مجازی پر دانه فرانسیسی پیانوی سرحد کے متوانی جا رہی تھی کچھ عرصہ بعد ہوائی کشتی نے واپس اسیر کا رخ کر لیا۔معلوم ہوا ایک انجن میں کچھ نقص پیدا ہوگیا ہے۔اسی پہنچ کر گھنٹہ بھر انجن کی اصلاح میں صف ہوا اور پھر روانہ ہوئے اور چار کے بعد دو پر پوستیمان پہنچ گئے۔میں آنکہ پہلی بار جنگی بندشوں سے سابقہ پڑا۔بندر گاہ سے سیٹیشن تک ایک چھوٹی سی کھڑکھڑاتی ہوئی موٹر میں گئے ایک معمر پوری ٹر نے ہمارے سوٹ کیس سنبھال لئے اور دریافت کیا کہاں جائیں گے ؟ لندن کہ کہ میں نے دو شلنگ اس کے توالے گئے اور وہ شکریہ کہ کہ سوٹ کیس لئے غائب ہو گیا۔ہمارے سٹیشن پہنچنے تک اندھیرا ہو چکا تھا اور روشنی کی ایک شعاع بھی کہیں نظر نہ آتی تھی۔انور میاں کو سیکر ٹری کی حیثیت سے سامان کی فکر ہوئی۔پوچھا یا کیا جائے ؟ میں نے کہا فکریہ کر و عندی پہنچنے پر مل جائے گا۔لیکن انہیں اطمینان نہ ہوا۔اتنے میں گھپ اندھیرا ہو گیا پہلی گاڑی آئی جو لندن جانے والی نہیں تھی۔انہیں پریشانی ہوئی کہ ہمارا سامان اس میں نہ چلا جائے۔میں نے تسلی دی لیکن وہ مطمئن نہ ہوئے۔دوسری گاڑی آئی وہ بھی لندن جانیوالی نہیں تھی۔تیسری گاڑی لندن جانیوالی تھی۔لیکن اندھیرے میں کچھ نہیں سو جھتا تھا کہ کہاں جگہ مل سکے گی۔میں ایک کمرے میں گھس گیا۔اور میاں کسی اور کمرے میں جوں توی کر کے داخل ہوئے۔گاڑی سمت "