تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 417 of 736

تحدیث نعمت — Page 417

اسم کے آزاد ہونے میں کونسی بھر روک بن رہی ہے ؟ انے WAR BOEROS جنوبی افالیہ کے نمائند ے کرنل رئیس تھے جو جلد بعد نوبی افاقہ کے ہائی کمشنر و کر لندن آئے۔وہ Bop An میں برطانیہ کے خلاف لڑتے رہے تھے۔لڑائی ختم ہونے پر دل شکستہ ہوکر مڈغاسکر چلے گئے تھے اور ر ہیں لبس جانے کی ٹھان لی تھی۔لیکن جنرل سمٹس کے سمجھانے پر واپس آگئے POER WAR کے حالات اور سنگ کے دوران اپنے کارناموں پشتمل انہوں نے ایک کتاب بنام کمانڈو (COMMANDO ) شائع کی تھی۔جو بہت مقبول ہوئی پھر اس کے بعد کے حالات پر ایک اور کتاب گہOUTS PA " شائع کی۔دونوں کی ایک ایک جلد مجھے تحفہ دیں۔جہاں کہیں اکٹھے تصویر لئے جانے کا موقعہ ہوتا میں ان کے ساتھ کھڑا ہو جاتا اوراپنا بازوان کے بازو میں ڈال لیتا اور کہتا اب آپ اپنے ملک میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گئے۔وہ مسکرادیتے اور کہتے نان سنس (NON SENSE) ں نے ایک دن اس سے کارنیل میں میں تونہ کرتا ہوں کہ اپنے دونوں لڑکوں کوایک سال کیلئے ہمارے ہاں سنتان بھیج دیں۔وہ ہمارے مہمان رہ ہیں۔جب وہ اپنے ملک واپس جائیں تو جنوبی افریقیہ کی ہندوستانی آبادی کے حقوق کے متعلق تو تجویز دہ کریں اسے قبول کر لیا جائے۔کہا تجویز و معقول ہے۔جنگ کے بعد ممکن ہے اس پر عمل بھی ہوسکے۔میں اپنے بیٹوں کے ساتھ مشورہ کروں گا۔لیکن بھی جنگ ختم نہ ہوئی تھی کہ ان کی وفات ہو گئی۔وزیر اعظم کی دعوت میں پہنچنے پر مں نے اور احمد کوسٹر ڈبلیو ڈی کرافٹ کے سپرد کر دیا جنہیں میں گول میز کا نفرنس کے وقت سے جانا تھا وہ وزیر بن کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے۔دو ختم ہونے پر انہوں نے تایا کہ جسے سند جیسے مہمان آئے گئے میں ان سے کہا گیا یہ لال صاحب ہیں یہ فلاں صاحب ہیں۔جب وزیر اعظم آئے تو میں نے کہا انور ادھر دیکھودہ وزیرا عظم آرہے ہیں۔انورنے کہ مجھے وزیراعظم کوئی ویسی نہیں میں چرسیل کے انتظارمیں ہوں۔ان کی شخصیت اہم ہے۔بعد شا د میں چرسی زیراعظم ہوگئے تو انوراحمد نے لندن سے مجھے لکھا آپکو یا د ہے می نے مسٹر کرافٹ سے کیا کہا تھا ؟ المرور "First Lord of Admirality جنگ شروع ہونے پر مسٹر یہ پھل کو تو D MIRA LI FIRST کا منصب پیش کیا گیا تھا اور انہوں نے قبول کر لیا تھا۔پہلی عالمی جنگ کی ابتدا میں بھی وہ اسی منصب کیہ فائنہ تھے۔کانفرنس کے دوران میں انہوں نے کامن ویلتھ کے نمائندگان کوشام کے کھانے پر ADMIRALTY HOUSE میں۔میں مدعو کیا کھانے کے بعد کہیں P roon میں لے گئے اور برطانوی جری تجارت بڑے کے حفاظتی انعامات کی تفاصیل کی وفات کی۔جب ختم کر چکے تو کرنل ریٹیں سے دریافت کیا آپ کی نا ر کیا کہ کرنل ریٹس نے جواب دیا میں سو رہا تھاکہ ہ کتنی توش نیسی تھی کہ جب آپ کے لیڈی سمتھ سےبھاگے تو ہارے کسی آدم نے آپ کو گولی کا نشانہ بنا د باب السر ا یاری می بوں کی جنگ کے دوران مسٹر یا والی ہیں (ص)