تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 413 of 736

تحدیث نعمت — Page 413

اسے سوائم سے بری کیا جاتا ہے !!؟ اگر اقبال جرم ملزم کے خلاف قابل پذیرائی نہیں تو اس ملزم کے خلاف حسین نے اقبال تحریم نہیں کیا کیسے قابل پذیرائی ہو گی ؟ اگر میرا منصب عدالت اپیل کا ہوتا تو میرے لئے کوئی مشکل نہ تھی۔میں تو شیل کمشنر صاحبان کی تجویز کو جس کی بنا پر انہوں نے اقبالی ملزم کو بری کیا تھا ظلم کرتے ہوئے قرامہ دنیا کہ اقبال تیم دوست عزم کے خلاف بھی قابل پذیرائی نہیں۔اور اسے بھی بری قرار دیا لیکن مرا منصب علالت اپیل کا نہیں تھا مسل کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنا کہ دونوں ملزمان کے خلان جرم ثابت تھا۔میری دانست میں اقبال حجم قابل پذیرائی تھا۔اور اسے رد کرنے میں جوڈیشنل کمشران نے غلطی کی مفتی۔لیکن اس غلطی کی اصلاح نہ تو میرے ذمے تھی اور نہ ہی مکن تھی۔دوسری طرف الضان کا یہ تقاضا نہیں تھا کہ اگر ایک مجرم عدالت کی غلطی کی وجہ سے اسے پی گیا ہے تو اسے مجرم کوبھی لانہ ام اس غلط کا نامہ ملنا چاہئے ایک کرنا ہے لافانی ہی نہیں کہ ظلم ہوتا۔میں نے یہ ساری مشکل اپنے نوٹ میں درج کر کے فقط یہ سفارش کی کہ درخواست کنندہ کی سند پالسی سے تخفیف کرکے عمر قید کردی جائے جو منظور ہوگئی۔میری طبیعت کا میلان تو اسی طرف تھا کہ جہاں بھی نرمی کی گنجائش نظر آئے نرمی کی جائے۔ہر سو عبد میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھی کہ جہاں تک ہو سکے لوگوں پر عدوانہ در ہونے سے انہیں بچاؤ اور جہاں گنجائش ہو ان کیلئے مخلصی کا راستہ تلاش کرو، کیونکہ یہ بہتر ہے کہ ایک قصور وار سزا سے بچ جائے بجائے اس کے کہ ایک بے قصور پر عقوبت وارد ہو۔اس کو پڑھ کر مجھے اطمینان ھی جو کہ اللہ تعلی نے اپنے فضل در حم سے مجھے ایسا موقعہ عطافرمایا کہ میں اس فرمان کے مطابق سعی کر سکا اور ساتھ ہی حسرت بھی ہوئی کہ کاش ہے اس فرمان کا علم ہو جاتا تو اس تعلق میں مزید مواقع نرمی کے تلاش کرتا۔دوسری عالمی جنگ شروع ہونے شہ میں دوسری عالمی سنگ شروع ہونے پر دال ہے پر محکمہ سپلائی کا چارج نے ایک نیا مکہ سپلائی کا نام کیا اور یہ حکم میرے سپرد کیا گیا جس سے میرے فرائض میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔اس سلسلہ میں ایک وار سپلائی کونسل بھی قائم کی گئی۔ہر سونیہ کے جنوب اور مشرق کے سب برطانوی مقبوضات اور نو آبادیات کی حکومتوں کے نمائندے اس کو نسل میں شامل کئے گئے۔وائسرائے اس کونسل کے صدر تھے اور میں چیرمین سپلائی کا محکمہ بہت جلدی وسعت اختیا کر گیا۔اس کی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہندوستان کی صنعت و حرفت کو بہت فروغ حاصل ہوا اور ملک نے جلد جلد اقتصادی ترقی کی طرف قدم بڑھایا، ہندوستان سے اسقدر یعنی اور دیگر ضروریات انان برطانیہ کو یا یا گیاکہ جنگ ختم ہونے تک ہندوستان کے ذمہ تو برطانوی قرضہ واجب تھاوہ ادا ہوگیا اور برطانیہ شہندوستان کا در سو کروڑ پونڈ کا مقروض ہو گیا۔