تحدیث نعمت — Page 412
وامم ہو تو میں اپنی غلطی تسلیم کرلوں گا۔میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے ضرور اپ کیا ہو گا اور انہیں طمینان ہوگیا ہوگا کہ اگر وہ اپیل بخشی صاحب کی بجائے ان کے اپنے اجلاس میں پیش ہوتی تو وہ تین مہینے کی قید سے زیادہ سند ایک اور موقعہ پر چیف جسٹس بیگ نے مجھے کہا ظفر اللہ پھانسی کی سزا میں تخفیف ہونے پر مجھے تو کوئی افسوس نہیں ہوتا۔اس ملک میں شہادت ایسی غیر تسلی بخش ہوتی ہے کہ مرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔اسلئے مجھے خود پھانسی کی سر بحال رکھنے میں تامل ہوتا ہے۔لیکن جب تم بالکل معافی کی سفارش کر دیتے ہو تو اس سے جی میں بیچنی پیدا ہوتی ہے کیونکہ ایسی سفارش سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جوں نے اپنے فرائض منصبی کو یا حقہ ادا نہیں یا وہ چاہتے ہی کار را دراخواستہ ہمارا یہ تاثر ہوکہ ملزم کے خلاف تحریم ثابت نہیں تو فیصلہ کرنے والے جج صاحبان کو موقعہ دیا جائے کہ وہ اپنے فیصلے کی صحت کی تائید میں اپنے دلائل بیان کر سکیں۔میں نے کہا مج صاحبان ا یہ مطالبہ بالکل جائے۔اگر آئندہ کسی در خواست پرایسی صورت پیدا ہوئی تومیں آپ ہی کروں گا مجھے عدالت ہائے عالیہ کے فیصلوں میں دخل اندازی کا شوق نہیں تھا۔میں یہ بھی جانا تھا کہ رحم کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے میرا منصب عدالت امیل کا منصب نہیں۔مثلا نشہ اتر کا وزن کرنا عدالت کا منصب ہے۔کسی وزارت کو اس سے سرو کار نہیں ہونا چاہئے لیکن جہاں کسی مسلمہ اصول کی صریح خلاف ورزی ہوئی ہو یا اضح شہادت بالکل نظرانداز کردی گئی ہو گویا اس پر موجود ی نہیں یاکسی ایسی مفروضہ شہادت پر انحصار کیا گیا ہو تواس پر موجود نہیں لیکن کسی غلط فہمی کے نتیجے میں فرض کر یا گا ہو کہ مل پانسی کا گلا گھونٹنا ہو تو ایسی صورت میں فاضل جوں کے احترام کے باوجود اور متعلقہ کی بنا پر رائے قلم کرنا اور فیصلے پر پہنچا فرض منصبی کا تقاضا تھا جس سے گریہ کرنا میری نگہ میں خلاف دیات تھا۔ایک آدھ فیصلہ تو میری نظر سے ہیں بھی گذرا که مبونوت عقل زیرت که این بعد لو العجمی است - ایک صوبے کے جوڈیشنل کمشنر صاحبان نے ایک اسپیل کی سماعت کی جس میں دو ملزمان کو قتل عمد کے جرم میں موت ک سنمار گئی تھی۔ایک ملزم نے اقبال حرم کیا تھا۔اس کے اقبال تحریم اور تائیدی شہادت کی بنا پہ دونوں ملزمان کے خلاف جرم ثابت شدہ قرار دیا گیا تھا۔جوڈیشنل کمتر صاحبان نے اپنے فیصلے میں پہلے تو اس ملزم کے کیس پر غور کی جس نے اقبال جرم نہیں کیاتھا ور قرار دیا کہ قبلی ملزم کا اقبال جرم دوسرے ملزم کے خلاف ایکٹ شہادت کے رو سے بطور شہادت استعمال کیا جا سکتا ہے اور تائیدی شہادت کے ساتھ سپر غور کرنے سے دوسرے عزم کا تجرم ثابت ہے اسلئے اس کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔پھر عدالت نے اقبالی ملزم کے کیس پر غور کیا اور قرار دیا کہ اس کا اقبال مجرم قابل پذیرائی نہیں۔اسلئے اس کی اپیل منظورہو کہ