تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 414 of 736

تحدیث نعمت — Page 414

ام سپلائی کے محکمہ کے پہلے ڈائرکٹر جنرل جنرل وڈ مقرر ہوئے۔سر مہوڈو کو اس محکمہ کا پہلا سکریٹری مقرر کیا گیا۔جب وہ سندھ کے گورنہ ہو گئے تو سرالیوں جنکینز محکم سپلائی کے سیکر یٹری مقرب ہوئے وہ بہت قابل افسر تھے۔دفتری کام کے علاوہ اور کوئی ڈھپی نہ تھی۔شادی نہیں کی تھی اسلئے بیوی بچوں کے دھندی سے آزاد تھے دفتر میں دیر تک بیٹھ کر کام کرتے رہتے تھے۔جب اپنا کام ختم کرلیتے تو جائنٹ اور ڈپٹی سیکریٹریوں کے کمروں میں جاکر ان کی میزوں سے سلیں اٹھال تھے اور ان پر تناسب احکام صادر کر کے انکی میزوں پر واپس لکھ دیتے۔دوسری صبح متعلقہ افسران محیران ہوتے کہ جو ملیں وہ ابھی دیکھ نہیں پائے ان پر سیکر یٹری صاحب کے احکام بھی صادر ہو چکے ہیں۔چونکہ میں بھی آج کا کام کل پر ٹالنے کا عادی نہ تھا اسلئے سرابوں ایسے کام کے دھنی سیکریڑی کے ساتھ میر می نخوب گذرتی تھی۔مسل پر ان کا نوٹ ایسا جامع اور واضح ہوتا تھا کہ مجھے ملک کسی اور کاغذ کے دیکھنے کی بہت کم ضرورت ہوتی سرالیوں بعد میں پنجاب کے گورنہ ہو گئے تھے محکمہ کا کام بڑھ گیا تو کلکتہ میں ایک انجینیرنگ کی ڈائر یکریٹ قائم کی گئی۔جس کے پہلے ڈائرکٹر منبرای سر گھستری سیل ہوئے تو میرے ساتھ ریلوے بورڈ کے چیف کمشنر کی حیثیت سے کام کر چکے تھے۔ڈومنین منسٹرز کا نفرنس میں اکتوری شاد کے آخر میں وائسرائے نے مجھ سے ذکر کیا کہ برطانیہ شرکت کے لئے لندن کا سفر کے وزیر اعظم مسٹر نیول چیر مین نے ڈومنیٹر کے وزراء کی ایک کا نفرنس طلب کی ہے۔اور ہندوستان سے بھی ایک نمائندے کو شمولیت کی دعوت دی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ سنتان کی طرف سے تم اس کا نفرنس میں شرکت کرو۔جنگ کا زمانہ ہے اور محکموں پر کام کا بہت بوجھ ہے۔ساتھی افساد کی کمی ہے کیسی افسر کو تمہارے ساتھ بھیجنا مشکل ہو گا۔جہاں تک معلومات اور مشورے کی ضروریت ہوگی وہ انڈیا آفس مہیا کر دے گا البتہ ایک ذاتی سیکریڑی کی تمہیں ضرورت ہوگی۔اگر تم کسی ایسے شخص کو ساتھ لے جانے پر آمادہ کر سکو جو تمہارے لئے سہولت کا باعث ہو سکے توکر لو۔اگرچہ میں تونہیں سمجھتا کہ جنگ کے خطرات کے پیش نظر کوئی شخص تمہارے ساتھ جانے پر رضامند ہو سکے گا۔میں نے عزیزیم چودھری انور احمد کاہلوں سے ذکر کیا وہ شوق سے رضامند ہو گئے۔ان ایام میں انگلستان کا سفر ہوائی کشتی سے ہوتا تھا۔وہلی سے قریب ترین مقام جہاں سے وئی کشتی پر دانہ کرتی تھی گوالیار سے چند یل کے فاصلے پر تھا ہم دل سے ریل پر گوالیار گئے ریزیڈینسی میں بطورے اور ہوائی کشتی کے پروگرام کے مطابق روانہ ہوگئے۔اسی گشت میں مروجہ ایسی حجاب لارڈ کیسی ہی اور آسٹریا کے گور نہ جنرل رہ چکے ہیں اور ان دنوں آسٹریلیا کے وزیرہ مالیات تھے اس کا نفرنس میں آسٹریلیا کے نمائندے کے طور پر شرکت کے لئے لندن جا رہے تھے۔گوالیار سے روانہ ہو کہ ہوائی کشتی سے کراچی پہنچے رات کراچی میں قیام ہوا، دوس کے دن کراچی سے روانہ ہو کہ بحرین ٹھہرنے کے بعد بصرہ پہنچے اور رات وہاں قیام ہوا۔تیرے