تحدیث نعمت — Page 15
۱۵ 1917 لکھنے کا وقت قریب تھا۔میں فٹ بال گراؤنڈ کی جانب کرسی بچھائے پڑھ رہا تھا کہ مں نے پروفیسر وادن کو اپنے بنگلے سے ہوسٹل کی طرف آتے دیکھا۔جب قریب پہنچے تومیں تعظیماً کھڑا ہوگیا سلام کیا اور دریافت کیا۔آپ نے پر چے دیکھ لئے۔انہوں کہا دیکھ لئے ہیں اور میں حیران ہوں کہ میں نے تمہیں اتنے نمبر کیسے دیدیے؟! میں نے دریافت کیا مجھے کتنے نمبر تے ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ تومجھےیا نہیں لیکن تم اول ہو شرتم لال کے متعلق دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ تم سے اس کے پانچ نمبر کم ہیں۔اگر چہ ہمارے کمرے بالمقابل تھے لیکن ہیں وقت تک ہمارے درمیان بات چیت کا کوئی موقع پیدا نہیں ہوا تھا۔لیکن انعام کا مقابل ختم ہو جانے پرایا معلوم ہوا جیسے ایک روک دُور ہو گئی ہو۔اور ہر روز کوئی نہ کوئی موقعہ بات چیت کا پیدا ہونے لگا۔یونیورسٹی کا امتحان ختم ہونے پر تم گھر چلے گئے۔برسوں بعد ایک وفعہ ان سے ملاقات ہوئی وہ اس وقت پیشن ج تھے اور میں دلی میں فیڈرل کورٹ کا بج تھا۔کچھ عرصہ بعد وہ فوت ہوگئے۔زندہ رہتے تو قوی اسکانیا کہ ہائی کورٹ کے بیچ ہو سجاتے۔اپنی الغامات کی تقسیم کے تعلق میں میری واقفیت مسٹریم سین سے ہوئی ہو مجھ سے جو نیر تھے اور قابل طالب علم تھے۔کچھ عرصہ انگلستان سے میری ان کے ساتھ خط و کتابت بھی رہی۔وہ اقتصادیات میں ایم اے کرنے کے بعد پوسٹل سروس میں لے لئے گئے اور محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ہوئے شاہ میں مجھے الہ آباد میں ان کا مہمان ہونے کا اتفاق بھی ہوا۔چند سالوں سے پیشن یافتہ ہیں اور میرٹھ میں مقیم ہیں۔ان کے ساتھ تولہ کے بعد ملاقات کا موقعہ میسر نہیں آیا۔لیکن نومبر الہ میں ان کے صافراد جو منگ کاک میں بین الاقوامی ادارہ ہے عمال کے نمائیندے ہیں۔ادارہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر منزل مٹر جنکس کے ہمراہ لاہور تشریف لائے اور ان سے ان کے والد محترم کی خیریت معلوم ہوگئی۔تقسیم انعامات کے موقعہ پر نٹنینٹ گورنہ سر لوئی ڈین نے اپنی تقریر یں میرا نام لیکر مجھے مضمون میں اول انعام حاصل کرنے پر مبارک باد دی اورمزید ترین الفاظافر نے ان کی تقریر کالج میگزین رای این چی زادی کے ایڈیٹر مسٹر گورودت سوندھی تھے۔جو بعد میں کالج کے پرنسپل بھی ہوئے۔رادتی میں ہو تقریر شائع کی گئی اس میں وہ الفاظ حذف شدہ تھے جو لفٹینٹ گورنہ نے میرے متعلق فرمائے تھے۔صرف اتنا لکھا گیا کہ ہنر آنر نے ایک طالب علم کو بہت سے الخام حاصل کرنے پر مبارک باد دی۔پروفیسر وادن کی مشفقانہ رہنمائی۔پروفیسر دادن میری بہت حوصلہ افزائی فرماتے تھے بی اے کے امتحان کے بعد میں نے ان سے مشورہ کیا کہ اگر پاس ہو جاؤں تو ایم اے میں داخل ہونے کی صورت میں کو لنا مضمون انتخاب کروں۔انگریزی کے متعلق انہوں نے فرمایا کہ تمہاری ضروریات