تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 14 of 736

تحدیث نعمت — Page 14

میں ملازم مجھے ٹیوٹر کے پاس چھوڑ آتا اور رات کو مجھے واپس گھر لے آنا۔کھیل کود کے زمانہ میں میانہ معمول رہا بعد میں میری آنکھیں دکھنا شروع ہو گئیں۔یہ پہلا سال ہے کہ مجھے آشوب چشم کی تکلیف نہیں ہوئی، میں کھیلوں میں حصہ لینا کب سیکھتا ؟ والد صاحب میری جمرات پر حیران تو ضرور ہوئے ہوں گے لیکن چونکہ خود وکیل تھے میری دلیل شاید انہیں معقول معلوم ہوئی، خاموشی سے سن لی اور جب میں نے بات ختم کی تو فرمایا اچھا جاؤ۔میں نے خیال کیا کہ میں نے اپنا پہلا کیس جیت لیا ہے۔جب میں انگلستان جانے کو تھا تو مٹر جونز نے مجھے چند ہدایات لکھ کر بھیجیں جن کے آخر میں یہ فقرہ تھا۔IN SHORT AVOID WINE AND WOMEN AND WORK HARD AND you WILL NEVER REGRET HAVING GONE TO ENGLAND • ان کی یہ ہدایت اسلامی تعلیم کے عین مطابق تھی۔اور میری طبیعت کی افتاد کے بھی موافق تھی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحم سے مجھے اس پر پوری طرح عمل کرنے کی توفیق بخشی۔فالحمد لله على ذالك گورنمنٹ کالج کے میں جب کالج میں داخل ہوا تو سنیئر مسلمان طلبا میں دو نام منانہ تھے ایک ڈاکٹر بعض ہم عصر طلبا ولی محمد صاحب جو کیمیا میں ایم ایس سی کی تیاری کر رہے تھے اور دوسر سے شیخ فیروز دین مراد صاحب تو طبیعات میں ایم ایس سی کی تیاری کر رہے تھے۔جالندھر کے خان احمد حسین خاں صاحب میرے داخل ہونے سے عین پہلے اپنی تعلیم مکمل کرکے کالج چھوڑ چکے تھے۔کالج میں ان کے حسن کردار کا عام شہرہ تھا۔اس وقت بی اے کلاسز میں چودھری غلام رسول صاحب (مرید والہ ضلع گجرات ، پیر اکبر یچودھری سلطان احمد صاحب، چودھری غلام قادر صاحب دلپسر اکبر جناب چودھری سردار خان صاحب فیروز والہ ضلع گجرانوالہ ، شیخ غلام دستگیر صاحب (جالندھر، مسلمان طلبا میں پیش پیش تھے۔چودھری غلام رسول صاحب کے منجھلے بھائی چودھری ذکاء اللہ صاحب کیمیا میں بہت قابل شمار کئے جاتے تھے لیکن قضائے الہی سے جلد فوت ہو گئے۔احمدی طلبا میں شیخ محمد تیمور صاحب، چودھری فتح محمد سیال صاحب اور چودھری ضیاء الدین صاحب میرے سینٹر تھے۔میں ان سب کی شفقت کا مورد رہتا۔فجزاء الله احسن الجزاء ان دنوں غیر مسلم اور مسلم طلبا کے درمیان زیادہ مراسم نہ تھے۔میرے ہم جماعتوں میں ایک مسٹر شو تم لال ڈیرہ غازی خاں کے رہنے والے نہایت شریف کم گو اور قابل طالب علم تھے۔آخری سال انگریزی کے مضمون میں اول انعام کے لئے میرا اور ان کا مقابلہ ہو گیا۔پہلے دو امتحانوں میں ہمارے مجموعی نمبر برا یہ تھے۔تیسرے امتحان کے نمبروں پر انعام کا فیصلہ ہونا تھا۔میرا اندازہ تھا کہ وہ انگریزی مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ان کا خط بہت ہی صاف تھا اور پر اس پڑھا جاسکتا تھا۔متن پرونیہ دادن تھے۔جن کی رائے میری نسبت اچھی تھی۔نتیجہ