تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 16 of 736

تحدیث نعمت — Page 16

{ کے لئے بنی در کار ہو گی اتنی تم نے سیکھ لی ہے۔البتہ اگر انگریزی پڑھانے کا ارادہ ہو تو انگریزی میں ایم اے کر لو ورنہ اقتصادیات کا مضمون زیادہ مفید رہے گا۔میں نے دریافت کیا کہ ایک سال میں اقتصادیات میں اول درجہ حاصل کر سکوں گا ؟ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں سات ہی مہینے پڑھائی کے ہوں گے اتنے تھوڑے عرصہ میں پاس ہوتا تو ممکن ہے۔لیکن اول درجہ میں پاس ہوئے کی امید میں ظفر اللہ خان کی بھی نہیں دلا سکتا البتہ دو سال کے بعد اول در سیر حاصل ہونے کی امید دل سکتا ہوں۔عربی کے متعلق کہا کہ اگر تم آئنہ نہ میں اول آجاؤ اور عربی میں ایم اے کر لو تو کالج میں عربی کے پروفیسر ہو سکتے ہو۔راس وقت تک عربی ، فارسی ، سنسکرت پڑھانے کے لئے اساتذہ اور منٹل کالج سے متعار لئے جاتے تھے۔لیکن آئیندہ ان مضامین کے لئے باقاعدہ پر دیر مقدر کرنیکا فیصلہ ہو چکا تھا، جب میرے انگلستان جانے کا فیصلہ ہوگیا تو پر و فیسر وادن نے مجھے کیمرج کے دو پروفیسروں کے نام تعارفی خط دیئے جن میں میرے متعلق بہت تعریفی الفاظ استعمال کئے۔بعد میں دادن صاحب خالصہ کالج امرتسر کے پرنسپل ہو گئے تھے۔ہندوستان میں سروس ختم کرنے کے بعد انہوں نے لندن میں ایک سکوں کھولا۔میں جب لندن جاتا انہیں ضرور ملنا یاء میں جب میرا لفرز وائسرائے کی کونسل کے رکن کے طور پر ہوا۔تو میں لندن ہی میں تھا۔اعلان کے چند روزہ بعد میں ان کے مکان کے قریب سے گزر رہا تھا۔میں نے پیچھے سے بلند آوازہ میں شاباش شاباش کے الفاظ سنے۔مڑ کر دیکھا تو مسٹر وا دن جلد جلد آرہے تھے میں رک گیا اور کہا۔آپ کی چھٹی مبارکباد کی ملی تھی۔میں نے شکریہ کا خط بھیجا تھا۔کہا شکریہ کا خط مجھے مل گیا تھا لیکن اس موقع پر میں اپنی خوشی کے اظہار کو روک نہ سکا۔آخر میمہاری کامیابی میں میرا بھی تو کچھ حصہ ہے۔میں نے کہا کیوں نہیں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے۔حضرت خلیفہ المسیح اول کی خدمت میں حاضری کی سعادت۔اوائل لاء میں حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کو گھوڑے سے گرنے کا حادثہ پیش آیا جس سے آپ کی دائیں کنپٹی پر زخم ہو گیا جو بعد میں ناسورہ کی شکل اختیار کر گیا۔حادثے کے صدمے سے فوری طور پر ان کی طبیعت بہت کمزور ہو گئی۔آپ نے کاغذ کے ایک پرزے پر کچھ لکھا اور اسے ایک لفافے میں بند کر کے لفافے پر کچھ لکھا اور اسے دوسرے لفافے میں بند کر کے یہ لفافہ شیخ محمد تیمور صاحب کے سپرد کر دیا۔اور فرمایا یہ میری وصیت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آپ کو شفا دیدی بعد میں جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا۔تو آپ نے نے اپنی وفات سے دو تین دن قبل ایک باقاعدہ وصیت لکھ کر مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو دی۔اور فرمایا یہ پڑھ لیں اور پڑھ کر سنا دیں۔یہ وصیت شائع بھی ہو گئی۔اندریں حالات اس لفانے کے کھولنے