تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 263 of 736

تحدیث نعمت — Page 263

۲۶۳ صوبہ پنجاب میں وزارت کی پیش کش مجھے بھی گول میز کانفرنس میں شرکت کی دعوت علی جومیں نے قبول کی اور وقت آنے پر سفر کیلئے تیار بھی ہوگیا لیکن ایک غیر متوقع رکاوٹ پیدا ہوگئی انسداد میں مجلس قانون سانے کے انتخابات کا اعلان ہونے پر مں نے ضلع سیالکوٹ کے مسلم کا بدین اور با رسوخ اہل الرائے کے ایک اجتماع میں عرض کیا کہ میں نے پنجاب کونسل میں قریب چارسال ضلع کے مسلم حلقے کی نیابت کی ہے اگر آپ صاحبان سمجھتے ہیں کہ میں نے توجہ اور اخلاص کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی کی کوشش کی ہے اور میرے کام سے مطمئن نہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ خدمت میرے سر در نی چاہئے قومی اس خدمت کی مزید سر انجام دہی کو اپنے لئے وہ فخر سمجھ چکا اور آپ کے اعتماد کی میرے دل میں بہت قدیم ہوگی۔لیکن اگر آپ کی رائے جو کہ یہ خصومت اب کسی اور کے سپرد ہونی چاہیے ومیں آپ کی رٹے کا احترام کرتے ہوئےاپنے آپ کو انتخاب کے لئے پیش نہیں کروں گا۔اورمجھے کسی قم کا شکوہ نہیں يفضل الله لا مقابلہ منتخب ہو گیا۔فالحمد للہ یونینٹ پارٹی کے سلم اراکین کا ایک گروپ ملک سر فیروز خان نون کے وزیر مقرر کئے جانے پر متفق نہیں تھا۔کہا جاتا تھا کہ نسلیہ کے انتخابات میں ان میں سے بعض اراکین کے انتخاب میں ملک صاحب اور ان کے والد نہ گوارہ نواب ملک محمد حیات خاں نون صاحب نے جو ان دنوں کمشنر تھے ان کی مخالفت کی تھی۔ان میں سے جو حضرات انتخاب میں کامیاب ہو گئے وہ طبعا ملک صاحب سے آزردہ تھے۔کچھ اور اراکین بھی مختلف وجوہ سے ملک صاحب کے وزیر مقرر کئے جانے کے خلاف تھے۔چودھری سرشہاب الدین صاحب بھی منتخب ہوگئے تھے اوریہ یقینی امرتا کہ وہ پر مجلس کے صدرمنتخب ہوں گے۔وہ اپنے لئے وزارت کے قطعاً واہاں نہیں تھے لیکن ملک بروز خان ون کے ویرہ ہونے کے مخالف تھے انہوں نے دوتین بار پارٹی کے علم ارکین کو اپنے دولتکدے پر مشورے کیلئے طلب فرمایا لیکن یہ فیصل نہ ہوسکا کہ زات کیلئے کس رکن کا نام پیش کیا جائے میرے تعلقات چودھری صاحب کی تھ گہرے دوستانہ تھے اور انہیں مجھ پیا تا تھا۔انہوں نے مجھے اس بات پر رضامند کرنے کی کوشش کی کہ میرا نام گور نہ صاحب کی خدمت میں وزارت کیلئے پیش کیا جائے مجھے معلوم تھا کہ گورنہ سر تیرے ڈی مونٹ مور مینی میری نسبت حسن ظن رکھتے ہیں کیونکہ اسی سال کے ابتداء میں میاں فضل حسین صاحب نے مجھ سے ذکر کیا تھا کہ گورنہ صاحب کہتے ہیں ہائی کورٹ میں حج کی ایک عام منی جگہ خالی ہو نیوالی ہے اور میں نے سر شادی لال سے کہا ہے کہ وہ ظفر اللہ خان کے تقرر پہ رضامند ہو جائیں لیکن دہ نہیں مانتے۔میری نسبت سر جیفرے کی یہ رائے میرے لئے خاص طور پر موجب اطمینان تھی کیونکہ اس سے پہلے ایک ایک واقعہ ہو چکا تھا۔جس کی وجہ سے ان کے مجھ سے آزردہ خاطر ہونے کا امکان تھا۔وہ واقعہ یہ تھا۔!