تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 262 of 736

تحدیث نعمت — Page 262

۲۶۲ ی عزائم کے ساتھ ہمدردی تھی۔کانگریس کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات بھی تھے ان کے وزیر مند مسٹر ویکو ڈبلین پہلے برل پارٹی کے رکن تھے۔بعد میں لیبر پارٹی میں شامل ہو گئے انہیں بھی سند دوستانی سیاسی انگویں کے ساتھ ہمدردی تھی۔وہ بعد میں لارڈسٹینز گیٹ ہوئے۔ان کے صاحبزادے نے یہ ہم شروع کی کہ درانت جوی شخص ہاؤس آن لالہ ڈنہ کا رکن ہو اسے اختیار ہونا چاہیے کہ وہ ا شر کو ترک کر کے پاس آپ کا منت کے انتخابت میں حصہ لے سکے۔اس مہم میں وہ کامیاب ہوئے۔مناسب آئینی ترمیم کے دیگئیں۔پہلی گول میز کانفرنس انتشار میں وزیر اعظم مہینے میکڈانلڈ نے ہندوستان کے آئینی مستقبل پاز سرنو غور کرنے کے لئے لندن میں ایک گول میز کانفرنس طلب کی۔اکتوبر میں اس کا نفرنس کے اجلاس سینیٹ جیمز پلیس میں شروع ہوئے۔کانگریس نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔مندوبین حکومت کے نامزد کئے ہوئے تھے۔والیان ریاست کی خاصی تعداد شامل تھی۔برطانوی نمائندگان میں دونوں ایوانوں کے اراکین اور تینوں سیاسی پارٹیوں کے نمائندے شامل تھے۔اگر یہ کانگریس کے نمائندے شامل نہیں تھے اور یہ لینا بہت بڑا خلا تھا در تمام مندوبین حکومت کے منتخب کردہ تھے۔پھر بھی مسٹر شاستری، سرتیج بہادر سپرد ، مٹر بکار ، سر من لای سیلواو ، مٹر فیروز سیٹھنا، سر مالک جی دادا بھائی ، مٹر یقینا منی ، سراے پی پیٹرو ، سر راما سوامی مدلیانه ، سر آغا خان ، مولانا شوکت علی ، مولانا محمد علی سرمیاں محمد شفیع ، مٹر جناح (قائد اعظم ، سرسید سلطان احمد ، نواب صاحب پچھتاری ، خان بهادر محافظ ہدایت سین، سر عبد الحليم غزنوی ، مولوی ابوالقاسم فضل الحق ، سر غلام حسین ہدایت اللہ، نواب سر عبد القیوم خان ، بیگم شاهنوانه ما سر دار اجمل سنگر ، سردار سمپورن سنگھ ، مٹر کوشی ، مسٹر امبیدکار، نواب صاحب بھوپال، ہمارا یہ بیکانیر، سر اکبرحیدری ، سر مریدا اسمعیل، سمر لیاقت حیات خان اور کئی دیگر نماز شخصیتوں کی موجودگی اس امر کی ضامن متی کہ ہر نقطہ نگاہ کے اظہار کے لئے کانفرنس میں پورا موقعہ میسر ہو گا۔کانفرنس کا دفتری انتظام نہایت اعلیٰ تھا۔فرتی لحاظ سے کانفرنس کے دوران میں اور بعد میں مشتر کہ لیکٹ کمیٹی کے اجلاسوں کے دوران میں کسی قسم کی کوئی دقت پیش نہیں آئی۔پہلی گول میز کانفرنس میں خان بہادر میاں عبدالعزیز ملک کیا اور مسٹر آلما لطیفی سیکرٹریٹ میں شامل تھے مر لطیفی بعد کے اجلاسوں میں بھی شامل رہے اور مسلم رند کے لئے بہت مفید ثابت ہوئے سید امجد علی صاحب اپنے خرچ پر تمام اجلاسوں میں شامل رہے اور سلم وند کے سیکریڑی کے طور پر بہت مفید خدمات سرانجام دیتے رہے۔فرزا م اللہ مسلم وفد کے نبی اجلاس عموماً ہر ٹائی من سر آغا خان کی صدارت میں ان کے رٹز ہوٹل کے کمرے میں ہوتے رہے۔"