تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 264 of 736

تحدیث نعمت — Page 264

پنجاب کو نسل میں کے متعلق تحقیقات کے مطالبہ کیلئے تحریک التوا | چودھری عبدالرحمن خالصاحب رہا ہوں ضلع جالندھر) نے بیان کیا کہ مسرور سلے ڈپٹی کمشنز جالندھرنے کسی معالم میں نہیں جاکر دھمکایا چودھری عبدالرحمن صاحب آزاد پارٹی کے رکن تھے جس کے لیڈ کہ چودھری افضل حقی صاحب تھے۔میں نے چودھری افضل متقی صاحب سے کہا کہ آپ کی پارٹی کے ایک رکن کے ساتھ اگر ایک افسر نے ایسا سلوک کیا ہے تو آپ کو چاہئے کہ حکومت کو توجہ دلانے کیلئے التوا کی تحریک پیش کریں۔انہوں نے فرمایا ہم ایک چھوٹی سی پارٹی ہیں۔ہمارے احتجاج کا حکومت پہ کیا اثر ہو گا ! میں نے کہا یہ پارہ ٹی کا سوال نہیں بلکہ کونسل کے وقار کا سواں ہے۔اگر تحریک التوا کے ذریعے یہ مطالبہ کیا جائے کہ چودھری عبد الرحمن خالصا حب نے جو واقعہ بیان کیا ہے اس کی تحقیقات کی جائے تو میں امید کرتا ہوں کہ اراکین کونسل کی کثرت تائید میں ہوگی۔البتہ یہ احتیاط لاندام ہے کہ اسے ایک پارٹی کا سوال نہ بنایا جائے بلکہ ایک رکن کونسل کے احترام کے سوال کے طور پر پیش کیا جائے۔چودھری افضل حق صاحب نے دریافت کیا کیا تم نے اپنی پارٹی کے اراکین کے ساتھ مشورہ کیا ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔لیکن اگر آپ تحریک پیش کرنے پر آمادہ ہوں تومیں انفرادی طور پر اپنی پارٹی کے اراکین کی رائے معلوم کرنے کی کوشش کروں گا۔چودھری صاحب نے فرمایا۔اگر ہمیں یہ معلوم ہوسکے کہ دوسری پاریوں میں سے بھی ہمیں تائید کی امید ہو سکتی ہے تو سم التوا کی تحریک پیش کر دیں گے۔میں نے اپنی پارٹی کے بعض اراکین مورد فردا بات کھی اور اکثر کو اس حد تک تائید پر آمادہ پایا کہ بیان کردہ واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے۔مولوی سر رحیم بخش صاحب نے فرمایا ہم حکومت کے خلاف رائے تو نہیں دیں گے لیکن غیر جانبدار رہ جائیں گے۔ایسے معاملے میں مجھے ان سے اتنی بھی توقع نہیں تھی۔ان کے اس اظہار رائے سے مجھے اندازہ ہوا کہ تحریک التوا کامیاب ہو جائے گی۔ہندو پارٹی میں سے میں نے پنڈت نانک چند صاحب سے بات کی۔انہوں نے فرمایا تم نہیں پھٹانا چاہتے ہو اور خود خلاف رائے دوگے میں نے انہیں یقین دلایا کہ یہ پارٹی کا سوال نہیں۔میں خود تو ضرور تائید میں رائے دوں گا اور امید کرتا ہوں کہ یونینسٹ پارٹی کے اور اراکین بھی تائید میں رائے دیں گے۔چنانچہ تحریک پیش کی گئی۔میاں سرفضل حسین صاحب قائد الحیران تھے۔انہوں نے تحریک کی مخالفت کی اور نہ یادہ زور اسبات پر دیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب سے ٹیلیفون پر دریافت کیا گیا ہے۔وہ چودھری عبدالر حمن صاحب کے بیان کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے۔اب ایک طرف رکن مجلس کا بیان ہے دوسری طرف ڈپٹی کمشنر کا بیان۔تیرا کوئی شخص موجود ہیں تھا۔لہذا جب تحقیقات سے مزید کچھ معلوم نہیں ہو سکے گا تو تحقیقات کرنے سے کیا فائدہ ہو گا۔چونکہ تحریک التوا پیش کرنے کا مشورہ چودھری افضل حق صاحب کو میں نے دیا تھا اس لئے مجھے یہ احساس ہوا کہ میاں صاب ڈیوٹی کمشنر کے طرز عمل پنجاب کو نسل میں ایک تقریر کے دوران میں