تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 169 of 736

تحدیث نعمت — Page 169

199 خوشگوارہ نہیں تھی اور الٹے پاؤں اتنا لمبا سفر بھی ایک رحمت تھا لیکن چارہ بھی نہیں تھا۔اسی شام ہم بنارس روانہ ہو گئے بنارس میں ہمیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا مجسٹریٹ صاحب نے اجلاس شروع ہوتے ہی کیس بلالیا اور ہماری شہادت قلمبند کرنے کے بعد حکم صادر فرمایا کہ کوٹ ہمارے حوالے کر دیئے جائیں۔عدالت سے فارغ ہوتے ہی ہم اسٹیشن پر پہلے گئے اور پہلی گاڑی سے لاہور روانہ ہو گئے۔پیٹنہ ہائی کورٹ کا فیصلہ میری غیر حاضری میں چودھری شہاب الدین صا سر ب نے حکم صادرہ فرمایا کہ یکم جنوری سے میرے مشاہرے میں پچاس روپے ماہوارہ کا اضافہ ہوگا۔گویا ہوا اضافہ ۲ اگست کو ہونے والا تھا وہ یکم جنوری سے ہو گیا۔اس سے مجھے یہ بھی اطمینان ہوا کہ باوجود میرے ہر ہفتہ سیالکوٹ جانے کے اور بیٹینہ اور بنارس کے دو سفروں کے جناب پچودھری صاحب میرے کام سے خوش ہیں نالحمد للہ شروع سال میں میٹر ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ صادر کیا اور عدالت ما تخت کے فیصلے کو سجال رکھا فیصلہ سناتے وقت چیف جسٹس صاحب نے خورشید حسنین صاحب سے فرمایا کہ اس کھیس میں اہم اور مشکل فقمی سوال اٹھائے گئے ہیں۔اگر ہمارے فیصلے کے خلاف کوئی فریق پر بیوی کونسل میں اپیل کرنا چاہے تو ہمیں اجازت دینے میں تامل نہ ہو گا۔اس اطلاع کے ملنے پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے خاک کو مشورہ کے لئے طلب فرمایا اور بعد مشورہ فرمایا کہ بنیادی سوال پہ تینوں عدالتوں کا فیصلہ ہمارے تھی میں ہے کہ ہم محمد اللہ مسلمان ہیں۔نمانہ کے لئے علیحدہ جماعت قائم کرنے کا فقہی مسئلہ کچھ بھی ہو عدالت کا فیصلہ ترین الفاف ہے کہ جب محلہ والوں کی کثرت غیر احمدی ہے توا محمد یوں کو الگ با جماعت نمانہ اس مسجدیں پڑھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اصولاً یہی طریق امن کا طریق ہے۔ہمیں مزید چارہ جوئی کی ضرورت نہیں والد صاح کانے کالت ترک کر کے قادیان میں 1 اپریل سال میں والد صاحب نے سیالکوتی سلسلہ احمدیہ کی خدمت کیلئے سکونت اختیار کرنا میں اپنا د کالت کا کاروبار بند کر دیا اور قادیان حاضر ہو گئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے کمال لطف و شفقت سے نظاریت اعلی و نظارت بہشتی مقبرہ کے فرائض آپ کے سپرد فرمائے۔والد صاحب نے اپنے طور پر حضرت مسیح موعود کی کتب کا انڈیلیں بھی تیار کر نا شروع کیا۔آپنے نے بھائی عبدالرحیم صاحب سے ان کا مکان واقعہ محلہ دار العلوم (سو تعلیم الالم سکوں کے موسٹل کے جنوب کی جانب تھا، خرید لیا یہ مکان دو منزلہ تھا۔نچلی منزل آپ نے پچودھری فضل احمد صاحب روالد محترم چودھری عصمت اللہ خان صاحب ایڈوکیٹ) کو رہائش کے لئے دیدی اور اور پر کی منزل کے دونوں کمرے اپنا ر ہائش کے لئے رکھ لئے۔سال میں تین بیچارہ بارہ والدہ صاحبہ چند دنوں کے لئے قادیان حاضر ہوتیں باقی وقت ڈسکہ میں یا میرے پاس گزارہ نہیں ہو میرے لئے بہت " 1914