تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 168 of 736

تحدیث نعمت — Page 168

نے فرمایا یہ توتم نے بہت اچھا کیا کہ فرکم کر دیا بیشک ہمارے ہاں تیز مریح کا ہی رواج ہے۔میرے گھر سے تو بہت تیز مرچ کھانے کی عادی ہیں لیکن اتفاق سے وہ ان دنوں وہ لی گئی ہوئی ہیں۔پھر بھی میں بادر چی کو تاکید کہ دیتا ہوں۔چنانچہ باورچی کو طلب فرمایا اور تاکید کی کہ دو پر کے کھانے کے سالن میں مرح بہت کم صرف برائے نام ہو۔یہ صاحبان مراح کھانے کے عادی نہیں۔ہمارا اطمینان ہو گیا۔ہم شہر کی سیر کو چلے گئے جب دو پر کا کھانا چنا گی تو دیکھا کہ خان بہادر صاحب کے سامنے ایک چھوٹی طشتری میں چھوٹی سبز مرچ لکھی ہیں میرے دلمیں کچھ ندامت کا احساس ہوا کہ میں نے اپنے آرام کی خاطر میزبان کا کھانا بے مزہ کر دیا۔میں نے پہلا ہی نوالہ منہ میں رکھا تو میرا چہرہ سرخ ہو گیا اور آنکھیں بہنے لگیں اور یہی کیفیت سید العام اللہ صاحب کی ہوئی۔خان بہادر صاحب برا بہ نوائے کے ساتھ سبز مرچ کھاتے پہلے گئے ؛ اسی امکانپور سے روانہ ہو کہ دوسرے دن دو مہر ہم لفض اللہ بخیریت لاہور پہنچ گئے۔کام تو بہت جمع تھا لیکن میری دو ہفتوں کی غیر حاضری بظا ہر چودھری شہاب الدین صاحب کیلئے باعث ملال نہ ہوئی تھی۔اختبارات میں یہ پڑھ کر کہ چیف جسٹس صاحب نے میری بحث کے متعلق تعریفی کلمات فرمائے خوش معلوم ہوتے تھے۔میں اپنے کام کا لبقایا صاف کرنے میں مصروف ہو گیا۔مسروقہ اور کوٹوں کے سلسلہ تین چار دن بعد رسید النعام اللہ شاہ صاحب ابھی لاہور ا ا د د د د د د د ا میں بنارس کی عدالت میں حاضری میں میرے ساتھ ہی مقیم تھے ) یوپی پولیس کے ایک سب انسپکڑ صاحب تشریف لائے۔ہمارے مسروقہ اور کوٹ ان کے پاس تھے جن کی شناخت نہوں نے تم سے کرائی اور بلیک مغل سرائے اسٹیشن پر یہ کوٹ عبد اللہ نامی ایک ریلو نے علی نے ریل سے چھ الٹے تھے۔وہ انہیں ایک بورے میں بند کر کے لے جالہ نا تھا کہ سب انسپکٹر صاحب نے اسے دیکھ لیا۔اور دریافت کیا کہ یہ کیا ہے ؟ وہ گھبرا کر بھاگا۔سب انسیکٹر صاحب نے تعاقب کیا اور اسے پکڑ لیا بورے میں سے اور کوٹ نکلے سید النعام اللہ شاہ صاحب کے کوٹے کی جیب میں ایک کارڈ ان کے نام کا تھا جس بچہ ان کا سیالکوٹ کا پتہ لکھا تھا۔سب انسپکٹر صاحب تکمیل تفتیش میں سیالکوٹ تشریف لے گئے۔وہاں معلوم ہوا کہ سید صاحب لاہور میں میرے پاس ہیں۔کوٹ شناخت کرنے کے بعد ہماری توقع تھی کہ کوٹ ہمارے حوالے کر دیئے جائیں گے اور قصہ ختم ہو جائے گا۔لیکن سب انسپکڑ صاحب نے ہم دونوں کے نام سمن لطور گواہ سماد ہے۔حوالے کئے۔بہن میں حکم تھا کہ ہم دو جنوری شاہ کو نیا ریس میں مجسٹریٹ درجہ اول کی عادات میں گواہی کے لئے حاضر ہوں۔بنارس میں جو پچند گھنٹے ہم نے گزارے تھے ان کی یاد کوئی ایسی