تحدیث نعمت — Page 170
14۔نوشی اور بہ کنت کا موجب تھا۔سال کے شروع میں میرے گھر سے لاہور آپکے تھے اور گھر کا انتظام انہوں نے سنبھال لیا تھا۔میرے خالہ زاد بھائی چودھری غلام نبی صاحب مردانے کے تمام امور کے ذمہ دار ہو گئے اور مجھے خانہ داری کے انتظام سے کلی طور پر فراغت ہوگئی۔اب ہفتہ میں تین دن سیالکوٹ جانے کی ضرورت بھی مندر ہی۔چیف کورٹ لاہور میں اسی دوران میں میرے ماموں صاحب نے ایک نو جدار ی نگرانی کے پہلے گیس کی پیروی خواہشمند سائل کو میرے پاس بھیج دیا۔میں نے چیف کورٹ میں کام شروع کرنے کے امکان کی طرف ابھی کوئی توجہ نہیں کی تھی۔انڈین کیز کے کام کے ساتھ میں مانوس ہو گیا تھا اور مجھے اس میں پوری دلچسپی تھی۔چودھری شہاب الدین صاحب میرے کام سے خوش تھے اور میری ہمت افزائی کرتے رہتے تھے۔چیف کورٹ میں قدم رکھنے سے ابھی میری طبیعت حجاب محسوس کرتی تھی۔اب یہ کیس مہینے آیا تو میں نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے پڑھے اور میری رائے ہوئی کہ چیف کورٹ میں کامیابی کی گنجائش ہے۔یہ احساس بھی میرے لئے ایک قسم کا وہ منی چیلنج بن گیا۔لیکن وقت یہ تھی کہ میں ابھی چیف کورٹ بارہ ایسوسی ایشن کا رکن نہیں ہوا تھا نہ میرا کوئی منشی ہی تھا۔جو دفتری کا روائی اپنے ذمے لیتا۔کچھ تامل اور سوچ بچار کے بعد میں نے یہ کیس لے لیا اور تو کلاً علی الله نگرانی کی درخواست کا فارم حاصل کر کے چیف کورٹ میں نگرانی دائر کر دی۔ٹائپ وغیرہ کے کام کی سہولتیں مجھے انڈین کیسینز کے دفتر میں میر تھی ان کے متعلق کوئی دقت پیش نہ آئی۔نگرانی کی پختہ پیشی مقرر ہو گئی اور بعد سماعت فیصل رسائل کے حق میں ہو گیا فالحمدللہ اس سے مجھے کچھ تو صلہ ہو گیا کہ چیف کورٹ کا کام کوئی ایسا مشکل نہیں۔اس کے بعد کبھی مہینہ میں ایک دو کیس کسی تعلق کی وجہ سے میرے پاس آجاتے اور میرالتعارف چیف کورٹ کے حلقوں سے ہو گا لاہور میں قانونی پریکٹس کا آغازہ | چودھری شہاب الدین صاحب نے ایک دن مجھ سے فرمایا ظفراللہ خان خدا نے تمہیں بڑا مان زمین عطا فرمایا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ تم سارا وقت انڈین کینر کے دفتر میں بند نہ ہو۔اگر تمہیں عدالت کا کام ملے تو تم شوق سے لے لیا کرو۔چیف کورٹ میں کام کا تجربہ تمہارے انڈین کیبیز کے کام میں محمد ہوگا۔اور انڈین کینر کا کم نہیں۔پر ملٹس میں مدد لیگا۔ان کے اس ارشاد سے مجھے بہت سو صلہ ہوا۔میں نے سید العام اللہ شاہ صاحب کو سیالکوٹ سے بلا لیا کہ وہ میرے ساتھ پر سکیٹس کے کام میں معاون ہوں۔اور میں چیف کورٹ بار ایسوسی ایشن کا میر بھی بن گیا۔سید انعام اللث ، صاب کا قیام لاہور میں میرے ساتھ ہی تھا۔””