تحدیث نعمت — Page 152
۱۵۲ کا تنازعہ ہے اور اس تنازعہ کی تہد میں یہ مسئلہ ہے کہ احمدی جماعت کے افرادہ مسلمان ہیں یا نہیں۔اس تنازعہ کے متعلق فقہی اور قانونی مسائل کے ساتھ مجھے کوئی واقفیت نہیں تھی۔ادھر تاریخ سماعت استقدیر قریب تھی کہ مجھے فوراً کی ہور سے روانہ ہونا تھا۔میں نے چودھری شہاب الدین صاحب سے اجازت طلب کی جو انہوں نے کمال شفقت سے بلا تامل عطا فرمائی سید انعام اللہ شاہ صاحب میری تحریک پر فوراً میرے ہمراہ پہلنے پر تیار ہو گئے۔فجر اسما الله احسن الجزاء سید انعام اللہ شاہ صاحب | سید انعام اللہ شاہ صاحب سیالکوٹ کے مشہوراد است خاندان کے نو منہاں تھے بشمس العلماء مولانا سید میرحسین صاحب جن کی شاگردی کا فخر علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کو حاصل تھا اس خاندان کے بزرگ تھے۔سلسلہ احمدیہ کے سرکردہ بزرگ سید میر عامدثه صاحبین سید العام اللہ شاہ صاحب کے پھوپھا تھے۔سید العام اللہ شاہ کے صاحب کی طبیعت میں ظرافت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔نہایت منوا صنع تھے اور دوست نوازی کو سنجر و ایمان سمجھتے تھے۔کبر اور رعونت کے شدید دشمن تھے۔غم اور پریشانی کو پاس پھٹکنے نہیں دیتے تھے۔سفر اور حضر میں بشاشت کے ضامن تھے۔سکول سے ان کی طبیعت بلد اکتا گئی تلاش روند گار میں پہلے سیالکوٹ شہر کے پچونگی کے محکمے میں ملانہ مت کر لی۔ادبی مذاق نہ کھتے تھے ہیں سینگی خانے میں ان کی تعیناتی ہوتی وہی شہر کے ادبی مذاق رکھنے والے نو جوانوں کا مرکز بن جاتا۔وہاں ہر اتوار کو پر لطف محفل ہوتی۔میری عمران کی عمر سے چارہ پانچ سال کم تھی۔انگلستان جانے سے پیشتر میری ان کے ساتھ شناسائی تو ہوگئی تھی۔لیکن کوئی ایسی بے تکلفی نہیں تھی۔لاہور سے پیغام صلح اخبار کے جاری ہونے پر وہ پیغام صلح کے ادارے میں شامل ہو گئے۔کچھ عرصے کے بعد پیغام صلح کے ارباب حل و عقد کی پالیسی سے دل بہ داشتہ ہو کر سیالکوٹ کے محکمہ ہونگی میں واپس پہلے گئے حضرت خلیفتہ المسیح اوان کے وصال پر جماعت میں ہوا اختلاف ہوا اس میں با وجود فریق لا ہو سکے بزرگ اصحاب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے حضرت خلیفہ المسیح الثانی سن کے ہاتھ یہ بیعت کی اور اس عہد کو آخر تک پورے اخلاص کے ساتھ نبھایا۔میری انگلستان سے واپسی پر سیالکو کے محکمہ چورنگی میں ہی کام کر رہے تھے۔تھوڑا عرصہ بعد ملازمت ترک کر کے کھیلوں کے سامان کی تجارت شروع کر دی۔اس تبدیلی کا محرک جلب منفعت نہ تھا بلکہ جذبہ حریت و خود داری تھا۔وہ شہر کی انجمن شیان المسلمین کے فعال رکن تھے۔ہو صاحب اس مجلس کے صدر تھے د ہی بلدیہ کے نائب صدر تھے۔انجمن کی مجلس انتظامیہ میں جب کوئی مسئلہ نہ یہ بحث آتا تو سید